اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 218 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 218

218 سے کہا کہ چار پانچ بچیاں عطا ہوئیں لیکن نرینہ اولاد سے محروم ہوں۔آپ دعا کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔اور انہیں بچہ عطا کیا۔جواب اچھا بڑا اور تندرست ہے۔(۲) مکرم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب صدیقی مقیم میر پور خاص سندھ ( داماد حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب معالج خصوصی سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) کے ایک مقدمہ میں کامیابی کے لئے مولوی صاحب مکرم نے بہت دعا کی۔آپ نے دیکھا کہ ریچھ جیسا ایک جانور صدیقی صاحب پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔اور جس راستہ سے اس نے حملہ کے لئے گزرنا ہے وہاں ایک بہت بڑا درخت ہے جس کے تنے میں خلا ہے مولوی صاحب اس میں چھپ گئے اور آپ کے ہاتھ میں کاغذوں کا ایک گیند نما پلندہ ہے جس میں شیشے کے ٹکڑے اور لوہے کی کر چیں ہیں۔جب جانور حملہ کے لئے گزرا تو آپ نے زور سے اس کے پیٹھ پر یہ پلندہ دے مارا جس سے وہ زخمی ہوا۔اور خون بہنے لگا۔اور وہ لڑکھڑاتا ہوا جنگل کو بھا گا۔معلوم ہوتا تھا کہ ضرور مر جائے گا۔اسی طرح ان کے ایک اور مقدمہ کے متعلق آپ نے دعا کی۔تو دیکھا کہ کچھ سانپ ایک بڑے سانپ کی اقتداء میں صدیقی صاحب کی طرف جارہے ہیں مولوی صاحب نے جلدی سے بڑے سانپ کا سر کچل دیا تو سارے چھوٹے سانپ بھاگ گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں مقدمات میں کامیاب کر دیا۔(2) ایک سرکاری افسر ابوالحسن صاحب پر مقدمہ بن گیا۔ان کے برادر نسبتی نے مولوی صاحب سے دعا کی درخواست کی۔آپ دعا کرتے رہے۔ایک ماہ بعد آپ نے دیکھا کہ لوہے کی ایک بہت موٹی زنجیر جو آگ کی طرح لال ہے گویا بھٹی سے نکال کر لٹکائی گئی ہے دور تک جارہی ہے۔اور ایک طرف ابوالحسن صاحب اور دوسری طرف مولوی صاحب ہیں۔اور ابوالحسن صاحب اس کی سخت گرمی سے بہت بے چین ہیں اور مولوی صاحب کی طرف آنا چاہتے ہیں۔لیکن اس کی گرمی کی وجہ سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔مولوی صاحب نے سورۃ الفلق زور زور سے پڑھنی شروع کی جس سے وہ رفتہ رفتہ زنجیر ٹھنڈی ہوگئی۔اور ابوالحسن صاحب مولوی صاحب کی طرف آگئے جہاں خوب آرام تھا اور ٹھنڈک تھی اور تفہیم ہوئی کہ ان کو اللہ تعالیٰ بری کر دے گا۔سو بفضلہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا۔اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔اور ان کو بشارتیں عطا کرتا ہے جو روحانی ترقی اور ازدیاد ایمان وایقان کا موجب ہوتی ہیں۔آنحضور ﷺ کی زیارت بھی تین بار ہوئی۔چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں کہ۔ایک بہت بڑی عمارت ہے جس کے چاروں طرف چھ فٹ کی دیوار ہے۔احاطہ کا رقبہ چھ ایکڑ ہوگا۔برآمدے میں دو کرسیاں ہیں ایک پر میں بیٹھا ہوں۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب ( برادر حضرت