اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 156 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 156

156 آپ کی اہلیہ محترمہ امیر النساء صاحبہ " جن کے حالات گذشتہ صفحات میں مرحومہ کے بھائی حضرت حاجی غلام احمد صاحب کے حالات میں درج ہو چکے ہیں) بہت نیک بخت خاتون تھیں اور صحابیہ تھیں۔انہوں نے خواب دیکھا کہ میں گیارہ جنتوں میں گئی ہوں۔اس وقت تو حاجی صاحب یہ خواب سن کر خاموش رہے لیکن ۱۹۱۱ء میں ان کے فوت ہو جانے پر فرمایا کہ چونکہ مرحومہ نے گیارہ سپارے پڑھے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے گیارہ بہشت دیکھے۔چوہدری محمد علی صاحب :۔* آپ کے قادیان آکر دستی بیعت کرنے کا ذکر اوپر آچکا ہے۔آپ نے خلافت اولی میں تلخ کی تعلیم قادیان میں با قائدہ حاصلکی تھی۔اور اس کی سند بھی حاصل کی تھی۔اس زمانہ کا ایک واقعہ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح اول ہمیں سبق پڑھا رہے تھے کہ حضور نے ایک مبلغ کو کسی جگہ جانے کا ارشاد فرمایا۔اس نے معذرت کی تو فرمایا کہ مولوی صاحب آپ کو وہاں جانا پڑے گا۔ورنہ اگر آپ کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے تو پھر تو یہ مثال صادق آتی ہے کہ ٹو کرایہ پر ہی لینا ہے تو کیا ضروری ہے کہ گردموں ( سمدھیوں ) کا لیا جائے۔جہاں سے سستا ملے گا لے لیا جائے گا۔آپ کو تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔اور عمر کا اکثر حصہ آپ جماعت احمد یہ کریام کے سیکرٹری تبلیغ رہے۔احمدیت کے فدائی تھے۔کافی عرصہ تک آپ کو پرائمری مدرسہ احمدیہ کر یام میں بطور نائب مدرس خدمت کرنے کی بھی توفیق ملی۔عموماً آپ ایسی مجالس میں شرکت سے احتراز کرتے تھے جہاں رسومات وغیرہ بجالائی جاتیں۔چنانچہ اپنے ایک بھائی کی شادی میں جو قریب کے موضع کر یہہ میں ہوئی تھی۔رسومات با جا اور آتش بازی کے باعث آپ نے اس میں شرکت نہ کی کہ آپ ان امور کو خلاف شریعت سمجھتے تھے۔آپ خلاف شریعت امور د یکھ کر دلیری سے اور بغیر ہچکچاہٹ کے نفرت کا اظہار کر دیتے تھے۔تقسیم ملک سے جماعت احمد یہ کریام کے منتشر ہو جانے سے آپ کو سخت صدمہ پہنچا۔آپ ہجرت کر کے چک ۲۶ ضلع گجرات میں آباد ہوئے۔وہاں جو چند گھر احمدیوں کے تھے آپ انہیں آپ کے حالات آپ کے پسر چوہدری احمد علی صاحب سے دستیاب ہوئے ہیں۔** آپ نے ارتدادم کانہ کے موقع پر لیغی جہاد میں شرکت ی تھی اور کئی ماہ کے لئے اپنے خرچ پر وہاں گئے تھے۔آپ اس وفد میں شامل تھے جس کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۰ جون ۱۹۲۳ء کوخو دالوداع فرمایا تھا۔(45)