اصحاب احمد (جلد 10) — Page 149
149 چنانچہ ڈسٹرکٹ بورڈ مڈل سکول بمقام نواں شہر اور نورمحل آپ بطور عربی مدرس کے کچھ عرصہ ملازم رہے۔جس کے بعد آپ نے زمینداری کے علاوہ گاؤں میں ہی کریانہ کی دکان کھول لی۔جس سے مالی حالت مستحکم ہو گئی۔کاروبار میں آپ دیانتداری کا دامن تھامے رکھتے تھے۔خانگی زندگی :۔آپ۔آپ کی شادی محترمہ محمد جان بیگم صاحبہ دختر چو ہدری غلام احمد صاحب غیر احمدی سکنہ کا ٹھ گڑھ سے ہوئی۔آپ کی اولا د صرف ایک بچی تھی جس کی شادی آپ نے اپنے بھتیجے چو ہدری عبدالحق صاحب سے کر دی تھی لیکن فروری ۱۹۴۳ء میں وہ وفات پاگئیں اور اگلے روز چوہدری نعمت خاں صاحب کی اہلیہ بھی جو کچھ عرصہ سے بیمار چلی آرہی تھیں، انتقال فرما گئیں۔ان کی وفات کچھ صدمے اور کچھ بیماری کی وجہ سے واقعہ ہوئی۔قبول احمدیت و خدمت سلسلہ :۔آپ نے ۱۹۰۳ ء میں حضرت مسیح موعود کی بیعت پہلے خط کے ذریعہ اور پھر قادیان آکر دستی کی۔بعد ازاں کئی بار آپ کو قادیان آ کر حضور کی زیارت کرنے اور صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔آپ ذکر کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں لنگر خانہ سے نماز سے قبل ہی مسجد مبارک میں چلا گیا۔ابھی میں چند منٹ ہی بیٹھا تھا کہ حضور کھڑکی سے مسجد میں تشریف لے آئے۔میں نے مصافحہ کیا اور حضور سے باتیں کیں۔آپ تقسیم ملک تک جماعت کے سیکرٹری تعلیم و تربیت رہے۔آپ بچوں کو قاعدہ اور قرآن مجید پڑھاتے۔اور سورتیں یاد کراتے۔تقسیم ملک کے بعد ہجرت کر کے آپ چک ۰۹اگ۔تحصیل جڑانوالہ میں آباد ہو گئے تھے۔آپ یہاں بھی جماعتی امور میں پورے انہماک سے توجہ دیتے۔اور آپ یہاں بھی سیکرٹری تعلیم و تربیت اور اصلاح وارشاد کے طور پر کام کرتے رہے۔دیگر حالات و اخلاق:۔آپ کی ہمشیرہ محترمہ محمد جان صا حبہ کی شادی بالآخر حضرت حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کر یام کے ساتھ ہو گئی تھی۔اس کی تفصیل حاجی صاحب کے حالات میں درج ہے۔آپ ہی کی ثابت قدمی کا یہ نتیجہ تھا کہ یہ رشتہ ہوا اور حد درجہ با برکت ثابت ہوا۔بعد ہجرت چک ۱۰۹ میں دکانداری ویسی کامیاب ثابت نہ ہوئی۔لیکن ۵۴-۱۹۵۳ء میں کچھ اراضی بقیہ حاشیہ :۔(۹) مسماۃ امت ال۔خاوند غیر احمدی تھا۔افسوس کہ اس وجہ سے ان کا تعلق احمدیت سے قائم نہیں رہ سکا۔ان کی بیعت البدر میں درج ہے۔(صفحہ ۲۲۴)