اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page xvii of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page xvii

viii آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے۔اور قرآن کریم کو دستورالعمل بنانے سے پیدا ہوئی یہاں تک کہ خاک کی چٹکیوں کو آسمان کے تارے بنا دیا۔یہ سب دنیوی طور پر بالعموم نہایت معمولی حیثیت رکھے والے لوگ تھے لیکن ان کا ذکر آنے پر ہر احمدی کے دل میں محبت کا ایک سیلاب اُمنڈ آتا ہے اور آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔اور اس کے دل سے ان کے لئے تڑپ کر دعا نکلتی ہے اور عقل اس تبدیلی اور عشق کے نظارے اور قربانی وایثار اور وفاداری کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔تیسری ضرورت صحابہ کرام کے حالات کے ہمارے سامنے لانے کی یہ ہے کہ تا آئندہ نسلوں کو یہ معلوم ہو کہ ان کے بزرگوں نے دین کی خاطر کس قدر قربانیاں کیں۔کس طرح انہوں نے ایک آواز دینے والے کی آواز پر لبیک کہا اور اس دنیا کو ایک حقیر شے کی طرح ٹھکرا کر پھینک دیا، کس طرح ان کو محض اس لئے دکھ دیا گیا کہ وہ امام وقت کی آواز سن کر پروانہ وار دوڑے تھے۔ان کو گھر سے بے گھر کیا گیا۔زدوکوب کیا گیا۔بائیکاٹ کیا گیا۔ہر وہ ظلم جو آسمان کے نیچے توڑا جا سکتا ہے ان پر توڑا گیا۔اور کس طرح ان لوگوں نے نہایت اعلیٰ درجہ کے صبر اور وفاداری کا مظاہرہ کیا اور اس راستے میں اپنا جان، مال اور عزت غرض سب کچھ قربان کر دیا یہ سب باتیں ہمارے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔تا آئندہ نسلیں بھی اس قسم کی ہمت اور بہادری وفاداری اور ایمان اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے نمونہ حاصل کر سکیں۔چوتھی ضرورت ان حالات کے ہمارے سامنے لانے کی یہ ہے کہ یہ دکھایا جاسکے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی محبت اخلاص اور وفاداری کو قبول فرمایا۔اور اپنی رحمت اور قدرت کے ہاتھ سے انہیں ہر قسم کے آفات سے بچایا۔اور ہر قسم کی عزت عطا فرمائی۔اور قدم قدم پر اپنی خاص غیبی نصرت سے ان کو نوازا۔ہمارے سامنے یہ حالات آنے چاہئیں۔تا کہ ہم مشکلات مصائب اور ابتلاؤں کے ایام میں جلد گھبرا نہ جائیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید پر بھروسہ رکھنے والے ہوں۔ان وجوہات کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیں جن کے مدنظر صحابہ کرام کے حالات کو جمع کرنا اور پھیلانا ضروری ہے۔لیکن ان سب کا خلاصہ یہی ہے کہ ان حالات کو پڑھ کر ہماری آئندہ نسلوں کے ایمان زندہ خدا پر مضبوط ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسیہ کا اظہار اور قرآن شریف کی برکت ظاہر ہو۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحُ الْمَوَعوُدُ وَعَلَى الِهِمَا وَ أَصَحَابِهِمَا وَبَارَكَ