اصحاب احمد (جلد 10) — Page xvi
vii ۲۔جناب سید داؤد احمد صاحب (پرنسپل جامعہ احمدیہ۔ربوہ ) زیر عنوان اصحابی کالنجوم تحریر فرماتے ہیں:۔مکرم و محترم جناب ملک صلاح الدین صاحب کی طرف سے شائع کردہ اصحاب احمد کی جلد میں میرے زیر مطالعہ رہی ہیں۔ہمارے لئے اصل نمونہ تو ہمارے آقا و مولے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اور پھر حضور کے کامل متبع اور فرمانبردار اور اپنے قلب صافی پر حضور کا کامل عکس لینے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور ان دونوں کے تفصیلی حالات ہمارے سامنے قلمبند کئے ہوئے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کے صحابہ کے تفصیلی حالات جمع کرنے اور ان کو بار بار اپنے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ "أَصْحَابِي كَالنَجُومُ بِاتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَ يَتُمُ “ یعنی میرے صحابہ تو ستاروں کی مانند ہیں جیسے ہر ایک ستارہ اپنی الگ شکل اور روشنی رکھتا ہے اسی طرح گو میرا ہر ایک صحابی اپنی عادات اخلاق واطوار کے لحاظ سے ایک ممتاز شخصیت ہے لیکن ان کا منبع و ماخذ ایک ہی ہے جس کے پر تو کے نیچے آکر ان سب میں ایک خاص جلا اور روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔اور گو بظاہر یہ دسکتے ہیرے علیحدہ علیحدہ رنگ اور چمک اور شکل رکھتے ہیں لیکن یہ ایک ہی کان سے نکلتے ہیں۔اس لئے تمہارا خدا تک پہنچنے کا ایک یہ راستہ بھی ہے کہ تم میرے کسی صحابی کونمونہ بنالو۔اور حسب توفیق اس کے نقش قدم پر قدم مارتے چلے جاؤ تمہیں آخر کار میرے اس نور سے حصہ مل جائے گا جس سے انہوں نے حصہ پایا ہے۔یہ لوگ گویا مذہب کے قافلے کے لئے روشنی کے مینار کے طور پر قرار دیئے گئے ہیں۔دوسری ضرورت صحابہ کرام کے حالات کو سامنے لانے کی یہ ہے کہ ہم اس بے انداز قوت قدسی کا مشاہدہ کر سکیں۔جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے طفیل اور توسط سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی ہے کہ ہزاروں اور لاکھوں افراد کو روحانی اندھیروں اور موت کے گڑھے سے کھینچ کر باہر لے آئی۔اور ان کو نہ صرف یہ ایک نئی زندگی عطا کی بلکہ ان کے دلوں میں عشق و محبت کی ایک ایسی آگ لگا دی جس نے ان کے گناہوں کوخس و خاشاک کی طرح بھسم کر ڈالا۔اور ان کو ایک نئے روحانی قالب میں ڈھال دیا۔ہمارے سامنے اس بے مثال پاک تبدیلی کی داستان آتی رہنی چاہئے جوان ہمارے جیسے انسانوں کی زندگیوں میں