اصحاب احمد (جلد 10) — Page 142
142 دنوں قادیان میں ٹریننگ کلاس کھلی تھی۔چنانچہ آپ نے قادیان میں ہے۔وی کی ٹرینگ اعلیٰ نمبروں پر حاصل کی ان دنوں جنگ عظیم نمبر 1 جاری تھی آپ بھی رسالہ فوج میں بھرتی ہو گئے۔چند سال کی ملازمت کے بعد ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث آپ کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا۔خدمت مدرسہ احمدیہ :۔بعد ازاں آپ کے ٹرینڈ استاد ہونے کی وجہ سے مینجر مدرسہ احمدیہ کر یام حضرت حاجی غلام احمد صاحب نے آپ کو مدرسہ میں تعین کر دیا۔پہلے یہ مدرسہ مسجد احمد یہ میں ۱۹۱۶ء میں جاری کیا گیا تھا آپ نے کچھ عرصہ اس کے انچارج ماسٹر بہادر جنگ صاحب کے ساتھ کام کیا۔اور پھر بطور انچارج تھیں سال تقسیم ملک تک نہایت ہی خوش اسلوبی سے کام سرانجام دیا۔اور طلباء کی تعلیم وتربیت میں خوب کوشاں رہے۔پھر یہ مدرسہ باہر ایک علیحدہ عمارت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔آپ مدرسہ کے وقت کے علاوہ طلباء کو ظہر وعصر کے لئے مسجد میں لاتے۔نماز فجر کے بعد مسجد میں طلباء کو قاعدہ میسر نا القرآن اور قرآن مجید پڑھاتے اس تمہیں سالہ عرصہ میں کئی بارسرکاری گرانٹ بند رہی۔چنانچہ دوسری جنگ عظیم پر تو مدت تک بند رہی لیکن آپ نے ہمیشہ صبر وقتل اور توکل سے کام لے کر مدرسہ کا کام جاری رکھا اور اس میں فرق نہیں آنے دیا۔جبکہ دیگر نائب مدرسین اس بے اطمینانی کی صورت کے باعث مدرسہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔گو آپ کے ماموں حضرت حاجی صاحب اس عرصہ میں آپ کو مشاہرہ دے دیتے تھے۔لیکن آپ نے کبھی بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔خدمات جماعت مقامی :۔آپ مقامی جماعت کے سیکرٹری مال تھے۔اور اس کام کو آپ نے ایسی خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ نظارت بیت المال نے اس جماعت کی سو فیصد وصولی اور چوہدری صاحب کی اعلیٰ کار کردگی کا متعدد بار اعتراف کیا۔جولائی ۱۹۴۳ء میں حضرت حاجی صاحب کی وفات پر آپ ہی مقامی جماعت کے روح رواں بن گئے۔آپ امام الصلواۃ کے فرائض بھی ادا کرتے اور جلسوں اور دیگر تقاریب کا انتظام اور مرکزی احکام کی تعمیل و تکمیل اور جماعت کی تنظیم آپ ہی کرتے تھے۔۱۹۴۴ء میں ضلعدار نظام کے قیام پر ضلع جالندھر کا ہیڈ کوارٹر موضع کر یام ہی مقرر ہوا۔وہاں سے نوعمری میں بھاگنے اور سید نا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالی کی دعاؤں اور نیک مشورہ سے اس کی پاداش سے محفوظ رہنے کا ذکر حاجی صاحب کے حالات میں تفصیلاً دیا گیا ہے۔