اصحاب احمد (جلد 10) — Page 137
137 قبول احمدیت :۔حضرت حاجی غلام احمد خانصاحب ( بیعت فروری ۱۹۰۳ء) کے بعد آپ نے بذریعہ خط بیعت کرنے کی توفیق پائی۔اور چند ماہ بعد آپ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر دستی بیعت بھی کی۔بعد ازاں کئی بار حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور کئی کئی دن حضور کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا آپ کو موقع ملتا رہا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں قادیان گیا۔اور حضور کی خدمت میں عرض کی کہ آج کل ہماری مخالفت بہت ہو رہی ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد جماعت قائم کر دے گا چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے جماعت قائم کر دی۔پھر ایک دفعہ میں حضور کی ملاقات کے لئے قادیان پہنچا۔اس وقت حضور بہشتی مقبرہ قادیان سے ملحقہ باغ میں قیام پذیر تھے۔اور جس وقت میں پہنچا۔حضور احباب میں تشریف رکھتے تھے۔میں نے مصافحہ کیا۔اور حضور کے دست مبارک کو بوسہ دیا۔حضور نے حال پوچھا تو عرض کی کہ حضور اب ہماری مخالفت ختم ہوگئی ہے۔حضور خاموش سے ہو گئے جس سے میں نے سمجھا کہ آپ مخالفت کے ختم ہونے کو پسند نہیں فرماتے۔( حضور بڑے باغ میں ۱۹۰۵ء میں اپریل تا جون قیام پذیر ہے) کرم دین بھیں والے مقدمہ کے دوران میں چوہدری صاحب کو ایک دفعہ حضرت اقدس کے ہمراہ گورداسپور جانے کا موقع ملا۔ایک دفعہ آپ قادیان آئے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ملاقات کر کے ایک روپیہ نذرانہ پیش کیا۔دوسرے دن آپ نے چوہدری صاحب کو تلاش کروایا اور آپ کو روپیہ واپس کر کے فرمایا کہ یہ حضرت مسیح موعود کا حق ہے۔میرا نہیں تو چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ میں نے غلطی سے نہیں بلکہ آپ کو پہچان کر ہی دیا تھا۔یہ آپ کے واسطے ہی تھا۔اس پر آپ نے قبول فرما لیا۔آپ کے والد ماجد نے حضرت حاجی غلام احمد صاحب سے بھی پہلے یعنی ۱۹۰۲ء میں بیعت کر لی تھی اور حاجی صاحب کی بیعت سے ان کو بھی تقویت حاصل ہوگئی۔پھر اس خاندان کے کثیر افراد نے بیعت کر لی تھی چنانچہ ”ہمشیرہ مہر النساء صاحبہ نے بھی ۱۹۰۳ء میں بیعت کر لی۔(43) اور اہلیہ مہر خان صاحب (44) نے بھی تو یہ باور کرنے کے وجوہ موجود ہیں کہ چوہدری مہر خان صاحب نے بھی ۱۹۰۳ ء ہی میں بیعت کی ہوگی اور چوہدری صاحب کے بیان میں بھی یہی سن مذکور ہوا ہے۔حضرت حاجی غلام احمد خانصاحب کے سوانح میں تفصیل درج ہے کہ موضع کر یام میں مخالفت کے ایام میں ہی جو ترقی جماعت مقامی کی ہوئی۔اس کے بعد نہیں۔