اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 130 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 130

130 حضور کی طرف سے کوئی تحریک ہوتی تو اسے کامیاب بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیتے۔حضور نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا تو مرحوم جماعتوں سے چندہ فراہم کرنے اور وعدے لینے کے لئے جون جولائی کی گرمیوں میں متواتر دوماہ سفر کرتے رہے۔جس میں سے بیشتر حصہ پا پیادہ طے کرنا پڑا۔علالت :۔اس سفر کے بعد مرحوم بیمار ہو گئے ایک پتلے دبلے کم خور انسان کو مرض سل اپنا شکار سمجھتا ہے۔چنانچہ مرحوم اس میں گرفتار ہو گئے۔اور متواتر چار سال تک بیمار رہے۔مرحوم علاج کے لئے امرت سر ہسپتال میں تین سال متواتر چھ چھ ماہ کے لئے رہتے رہے۔تمام معالج اور نگران ڈاکٹر کہتے کہ مرحوم تمام مریضوں کے لئے نمونہ تھے۔معالجوں کی ہر ہدایت پر سختی سے عمل فرماتے۔ہسپتال میں اعلائے کلمہ حق تعلیم دینی کا کام جاری رکھا جس وارڈ میں آپ ہوتے کسی کو آپ نماز کا سبق دیتے۔کسی کو قاعدہ یسرنا القرآن پڑھاتے کسی کو قرآن کریم پڑھاتے ہند ومریضوں کو بھی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظم ”ہمارا خدا یاد کراتے۔اس طرح سارا وارڈ درس گاہ بن جاتا تمام مریضوں کو دعا کرنے کی ترغیب دیتے رہتے۔شام کو اکثر مریض اکٹھے ہو کر اپنا اپنا قصہ مرحوم کو سناتے اور حضرت مرحوم سے ہدایات لیتے۔غرض آپ کے وجود سے جہاں بھی آپ ہوتے لوگ فیض یاب ہوتے۔صبر وشکر :۔آپ نہایت ہی صابر وشاکر اور اپنے رب کی رضا پر راضی تھے اتنی لمبی بیماری میں بھی کبھی کسی نے آپ کے چہرے پر گھبراہٹ یا بے چینی نہیں دیکھی۔مرحوم سے جب کوئی حال پوچھتا تو ہنس کرفرماتے الحمدللہ خدا کا شکر ہے۔فرماتے مجھے نہ موت سے گھبراہٹ ہے نہ لمبی زندگی کی کوئی خواہش۔میں ہر طرح اپنے رب کی رضا پر راضی ہوں۔کئی دفعہ فرماتے کہ اگر مر کر بیوی بچوں اور دوسرے عزیزوں سے جدا ہوں گے تو کیا یہ کم خوشی ہے کہ حضرت نبی کریم علیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام - حضرت خلیفہ اسیح اوّل رضی اللہ عنہ اور ماں باپ سے ملاقات ہوگی۔شفقت على خلق اللہ :۔مرحوم کے دل میں شفقت علی خلق اللہ کا ایک دریا موجزن تھا۔مرحوم اس عاجز کے بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ: - فروخت اراضی پر نمبر داری ختم ہوگئی بعد تقسیم ملک آپ ضلع لائلپور میں پھر نمبردار بنا دیئے گئے۔ایک دفعہ آپ کی ہمشیرہ دولت بیگم بیمار ہو گئیں کسی علاج سے شفانہ ہوئی۔اور مرض شدت اختیار کر گیا۔آپ نے فرمایا کہ اب ہمیں دعا اور صدقہ سے کام لینا چاہئے۔چنانچہ صدقہ دیا گیا۔اور آپ نے مسجد میں تضرع سے دعا کی اور شربت شفا پلوانے کو کہا۔اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طور پر آپ کی دعا قبول فرمائی اور موصوفہ جلد صحت یاب ہوگئیں۔( مئولف)