اصحاب احمد (جلد 10) — Page 100
100 کے لئے چندہ دینے کے باعث آپ کا نام اس پر نمبر ۸ پر یوں کندہ ہے:۔حاجی غلام احمد کریام آپ نے خلافت جو بلی فنڈ اور چندہ تحریک جدید ادا کیا۔دفتر اول تحریک جدید میں ( بشمول اس رقم کے جو بعد وفات آپ کے بچوں نے ادا کی ) آپ کی طرف سے ایک ہزار ایک سو اکتالیس روپے ادا ہوئے۔حضرت چوہدری برکت علی خاں صاحب وکیل المال اس بارہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت حاجی چوہدری غلام احمد صاحب آف کر یام نے اپنی زندگی میں ہر سال اضافہ سے اشاعت اسلام میں مدددی قبل وفات آپ نے وصیت کی کہ میرا تحریک جدید کا چندہ اسی طرح اضافہ کے ساتھ جاری رہے کئی سال ان کی وفات کے بعد بھی ان کی اولا دا ضافہ سے ادا کرتی رہی۔مگر آخری چار سال میں حالات کی تبدیلی سے کچھ کمی کر کے ادا کیا۔چنانچہ ان کا نام صفحہ ۳۰ پر شائع ہو چکا ہے۔خاکسار نے حضرت حاجی صاحب مرحوم کے بیٹے چوہدری احمد دین صاحب چک ۰۹ اگ۔ب کو اس وصیت کی طرف توجہ دلائی تو لکھا کہ میں اور میرا چھوٹا بھائی عزیز نورالدین صاحب حضرت ابا جان کی اضافہ کی ۱۹۲ ( روپے کی رقم ضرور ادا کر دینگے بفضل خدا۔چنانچہ یہ رقم داخل ہوگئی ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء (32) حاجی صاحب فرماتے تھے کہ ایک شخص سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتا تھا۔کسی نے کہا کہ تم بہت بھی ہو کہنے لگا تم غلط کہتے ہو لوگ اپنی ذات ، اولاد ، خاندان کے لئے خرچ کرتے ہیں۔میں صرف اپنی ذات کے لئے خرچ کرتا ہوں۔میں بہت بخیل ہوں۔آپ بھی ہر قسم کے چندہ جات وصدقات میں مال خرچ کرتے تھے اسی لئے آپ کے پاس کبھی روپیہ جمع نہیں ہوا۔اکثر دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ ! تو مجھے اتنا مال دے کہ جس سے میں با ایمان آسودہ بقیہ حاشیہ صفحہ سابق:۔موصیوں میں سے تھے۔آپ نے ۲۹ دسمبر ۱۹۰۷ء میں ہی ہبہ کا داخل خارج آپ نے کر وا دیا تھا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مختار عام صدر انجمن احمدیہ کی تصدیق سند پر ہے کہ ہبہ کا داخل خارج ہو چکا ہے۔۲۶ دسمبر ۱۹۰۹ء کو میر مجلس انجمن حضرت مولوی نور الدین صاحب ( خلیفہ اول) کے دستخط سے حاجی صاحب کے نام سند جاری ہوئی آپ نے ۲۳/۶/۳۴ کو لکھا کہ بروئے فیصلہ مشاورت جس نے وصیت میں زمین دیدی اس پر چندہ عام نہیں مگر بغرض ثواب میں نے بقیہ زمین کی پیدوار سے چندہ عام ادا کرنا اس سال سے شروع کر دیا ہے۔