ارضِ بلال — Page 316
ارض بلال- میری یادیں ) میں گھر میں اکیلا ہی تھا۔میرے بیوی بچے انہی دنوں پاکستان سے گیمبیا آگئے تھے اور بعض مجبوریوں کی بنا پر وہ سینیگال نہیں آسکتے تھے اور اپنی ذمہ داری کی وجہ سے میں گیمبیا میں نہیں رہ سکتا تھا۔اس لئے ان دنوں میں سینیگال میں اکیلا ہی تھا اور فیملی گیمبیا میں اکیلی تھی۔جس کی وجہ سے پہلے ہی کافی پریشانی تھی۔اب والدہ صاحبہ کی وفات نے تو پردیس میں ان حالات میں ہلا کر رکھ دیا۔ساری رات میں اکیلے خود ہی روتا اور خود ہی اپنے آپ کو تسلی دیتا رہا۔میرے ساتھ ایک معلم مکرم صالی جابی صاحب رہتے تھے۔صبح کی نماز پر انہیں میں نے والدہ صاحبہ کی وفات کے بارہ میں بتایا۔اس پر اہل محلہ اور احباب جماعت تشریف لے آئے۔انہوں نے میرے دکھ اور غم میں میرا ساتھ دیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین۔316