ارضِ بلال — Page 293
ارض بلال- میری یادیں - چاندنی راتوں میں تو سمندر کی لہریں جوش و خروش سے اچھل اچھل کر ماہِ تابان کو چھونے کی سعی لا حاصل کرتی رہتی ہیں۔جس کے نتیجہ میں سمندر کا پانی ساحل سمندر پر دور دراز تک کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے۔ایک بار خاکسار اس علاقہ کے دورہ پر گیا۔میرے ہمراہ ایک لوکل معلم صاحب بھی تھے۔ہم نے رات ادھر ہی گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔دن کے پچھلے پہر ہم لوگ سمندر کے قریب پوٹو نامی جگہ پر پہنچے۔پانچ بجے بعد دو پہر کا وقت تھا۔سمندر کی طرف سے پانی کی واپسی کا سفر آہستہ آہستہ شروع تو ہو چکا تھا لیکن تاحال اس رستہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری وساری تھا۔اب پوٹو سے میری منزل تقریبا پچیس کلومیٹرز کے فاصلہ پر تھی جو تقریبا ایک گھنٹے کا سفر تھا۔اس لئے سوچا کہ میں بھی اپنی گاڑی اس رستہ پر ڈال دوں۔خیر اللہ کا نام لے کر ساحل سمندر پر گاڑی چلانی شروع کر دی لیکن ایک خوف سا تھا کیونکہ میری گاڑی کافی پرانی تھی اور اکثر و بیشتر یہ خراب ہو جاتی تھی۔اب رستہ کے ایک جانب سمندر کی موجیں دوسری جانب دور تک ریت ہی ریت ، اس لئے بہت محتاط طریق پر گاڑی چل رہی تھی۔تقریباً پانچ کلو میٹر ز کا سفر طے کیا ہوگا کہ میں نے محسوس کیا کہ گاڑی کی رفتار میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔پھر گاڑی کی رفتار میں آہستہ آہستہ مزید کمی ہونی شروع ہوگئی۔میں اس صورت حال میں خاصا پریشان ہو گیا۔اب مزید آگے سفر کرنے میں تو کوئی حکمت نہ تھی۔اس لئے وہیں سے گاڑی کا رخ واپس پوٹو کی طرف کر لیا اور پھر بڑی احتیاط سے ڈرائیو کرتے ہوئے آہستہ آہستہ واپس پوٹو پہنچ گیا۔لیکن عجیب اتفاق ہوا کہ جیسے ہی گاڑی سمندر سے قدرے دور ایک محفوظ مقام پر پہنچی۔گاڑی کا انجن خاموش ہو گیا۔بڑی کوشش کی کہ کسی طرح گاڑی چل پڑے مگر اس نے نہ چلنا تھا نہ چلی۔آخر کار مایوس ہو کر ہم لوگوں نے وہاں سے کافی دور ایک شہر لوگا میں ایک مکینک سے رابطہ قائم کیا جو وہاں سے آکر ایک اور گاڑی کے ساتھ ہماری گاڑی کو باندھ کر اسے اپنے گیراج میں لوگا لے گیا اور پھر 293