ارضِ بلال — Page 265
ارض بلال۔میری یادیں۔اعتقادا اپنا اپنا۔بائیں ہاتھ سے سلام ڈئی تراول جو گیمبیا کے قریبی ملک مالی کے باشندہ تھے۔وہ ناصر احمد یہ ہائی سکول میں چوکیدار تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے، وہ سکول کی سالانہ تعطیلات کے دوران اپنے وطن مالی جانے لگے تو اس موقع پر سب دوستوں کو الوداعی سلام کر رہے تھے۔میں بھی ان کو ملنے کے لئے ان کے پاس گیا۔میں نے سلام کے لئے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔اس کے جواب میں انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔میں سمجھا شاید ان کے دائیں ہاتھ میں کوئی مسئلہ ہے۔بہر حال انہوں نے بایاں ہاتھ ہی مجھ سے ملایا۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو علم ہوا کہ ان کے اعتقاد میں ہے کہ اگر آپ لمبے سفر پر روانہ ہونے سے قبل دائیں ہاتھ سے الوداعی سلام لیں تو پھر آپ کی دوبارہ ملاقات ناممکن ہوتی ہے۔اس لئے لمبے سفر پر روانگی کے موقع پر بائیں ہاتھ سے ہی سلام کرتے ہیں۔جب پیر صاحب شیر کاروپ دھارتے ہیں گیمبیا،سینیگال اور باقی قریبی ممالک میں جعلی پیروں اور فقیروں نے اپنے داؤ ، فریب اور مکر ودجل کا ایسا جال بچھا رکھا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔خاکسار بھی بصے ہائی سکول میں اسلامیات پڑھایا کرتا تھا۔طلبہ مختلف موضوعات پر سوال کرتے رہتے تھے۔میں انہیں حسب توفیق جواب دیتارہتا تھا۔چونکہ ان میں سے اکثر کا تعلق ایک ضعیف الاعتقاد سوسائٹی سے تھا اس لئے ان کے سوالات بھی جنات ،تعویذ اور پیروں کے معجزات کے بارے میں ہی ہوتے تھے۔ایک روز ایک طالبعلم جس کا نام کیمو جبائے تھا، جو ایک قریبی قصبہ جارج ٹاؤن کا رہنے والا تھا، اس نے مجھ سے استفسار کیا کہ کیا ایک آدمی کسی اور مخلوق کا روپ دھار سکتا ہے؟ میں نے اس کوفی میں جواب دیا۔اس پر وہ کہنے لگا یہ درست نہیں ہے اور بطور ثبوت اس نے یہ بھی بتا یا کہ ان کے شہر کا 265