ارضِ بلال — Page 238
ارض بلال- میری یادیں) انہوں نے اپنے مریدوں کو بھی بلا لیا اور ہم لوگ ان کے مکان سے باہر میدان میں آگئے۔اتنے میں ایک آدمی ایک بھیڑوں کا ریوڑ لے کے ہماری طرف آ گیا۔پیر صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے پاس وقت کی کمی کے پیش نظر کھانا نہیں کھایا اس لئے ایک بھیٹر بطور تحفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس پر ان کے ایک مرید نے ایک بھیٹر میرے حوالے کر دی۔میں نے انکی مہمان نوازی اور قدر دانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بتایا کہ میں نے ابھی بہت سے مقامات پر دورہ کے سلسلہ میں سفر کرنا ہے۔اس لئے بھیڑ کو ساتھ لے جانا مشکل ہو گا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ یہ بھیڑ میں اپنی جانب سے آپ کے مریدوں کی خدمت میں پیش کر دوں اور یہ بھیٹر میں نے مریدوں کی طرف بڑھا دی۔اس پر مرید بہت خوش ہوئے اور ان سب نے میرا شکر یہ ادا کیا۔اس کے بعد میں اپنی بیماری کے باعث ان سے ملاقات نہ کر سکا۔موریطانین نو جوان کی حق گوئی موریطانیہ کے لوگ عام طور پر ضدی اور اجڈ ہوتے ہیں۔عربی ہونے کے ناطے سے صرف اپنے آپ کو پکے اور سچے مسلمان سمجھتے ہیں لیکن ان میں بعض نیک فطرت اور شریف الطبع لوگ بھی ہوتے ہیں جو حق کو حق کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے اور اسے اپنی جھوٹی انا اور وقار کا مسئلہ نہیں بناتے۔اسی طرح کے ایک نوجوان کی بات ہے کہ جب اُسے حقیقت کا علم ہوا اس نے بڑے خوبصورت الفاظ میں اقرار کیا۔ڈا کار شہر میں ایک نوجوان محمد نامی رہتا تھا۔یہ موریطانیہ کا رہنے والا تھا اور ڈاکار یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔اس کا مکان میرے محلہ میں ہی تھا۔نہایت شریف الطبع نو جوان تھا۔اکثر میرے گھر آتا مختلف موضوعات پر باتیں ہوتیں۔ایک دفعہ میں نے عربی اور فرانسیسی زبان میں دینی معلومات کے سوال جواب کی طرز پر دوکتا بچے تحریر کئے۔ایک روز میں نے محمد سے کہا کہ میں نے یہ عربی کتابچہ لکھا ہے۔میں عربی زبان 238