ارضِ بلال — Page 231
- میری یادیں ) درخت کے تنے پر چسپاں کر دیا۔اب جو کوئی بھی اسے ملنے آتا اُسے بتاتا کہ اس خط کو پڑھ لیں اور اگر اس میں کوئی غلط اور غیر اسلامی بات ہو تو مجھے اس کی نشان دہی کر دیں۔اس نوجوان کی بہادری اور شجاعت اور اعلان احمدیت سے کئی سعید روحوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔آپ انبیاء کے گروپ میں ہیں یا ابلیس کے؟ ٹناف گنی بساؤ کی سرحد کے قریب ایک قصبہ ہے۔ٹناف کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔وہاں پر ایک معروف حیدر فیملی رہتی ہے۔ان کے مرید سینیگال، گیمبیا اور گنی بساؤ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس خاندان کے سر براہ منتقی حیدرا صاحب کے ساتھ میرے اچھے دوستانہ مراسم تھے۔یہ بزرگ ایک شریف النفس انسان تھے۔جماعت کے بڑے مداح تھے۔جب بھی ڈاکار آتے تو میرے پاس ضرور تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ ہی نماز ادا کرتے اور کہتے میں جانتا ہوں کہ جماعت احمد یہ صداقت پر ہے۔ایک دفعہ میں ان کے علاقہ میں دورہ پر گیا ہوا تھا۔میرے ساتھ مکرم فضل احمد مجو کہ صاحب اور کولڈا شہر کے چند امام بھی تھے۔مکرم حید ر ا صاحب نے ہمارا بڑا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ایک بڑے سے ہال نما کمرہ میں مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا حیدرا صاحب نے اپنے احباب کو میرے آنے کی اطلاع کی تھوڑی دیر میں ہال بھر گیا۔حید را صاحب نے ہمارا حاضرین سے تعارف کرایا۔اس کے بعد میں نے بھی ان حاضرین کے ساتھ جماعت احمدیہ کی تعلیم اور عقائد پر بات چیت کی۔اتنے میں ایک نوجوان کمرے میں داخل ہوا ، جو شکل وصورت سے مولوی لگتا تھا۔کچھ دیر کے لئے ایک جانب کھڑا رہا۔پھر حیدرا صاحب کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ یہ کون ہیں ؟ حید را صاحب نے اسے بتایا۔یہ جماعت احمدیہ کا وفد ہے اور ڈاکار سے مجھے ملنے کے لئے آیا ہے۔اس پر وہ مولوی جو دراصل حید را صاحب کا کوئی عزیز تھا اور سعودی عرب میں تعلیم حاصل کر کے آیا تھا، کہنے لگا کہ آپ کو پتہ نہیں یہ لوگ کافر ہیں۔ان کو تو پاکستان گورنمنٹ نے کافر قرار دے دیا ہے اور انہیں 231