ارضِ بلال — Page 223
ارض بلال۔میری یادیں ) سوالات کرتے ہیں، آج میں آپ لوگوں سے چند ایک سوالات کروں گا۔جو آدمی میرے سوال کا صحیح جواب دے گا میں اپنی کار اسے دے دوں گا۔اس پر سب لوگ بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ ہاں سوال پوچھیں۔میں نے اسی استاذ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ آپ جواب دیں۔سوال یہ ہے کہ کیا حضرت محمد ملا لیا کہ ہم اللہ کے سچے نبی ہیں؟ اس پر سب لوگ بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے یہ عجیب سوال ہے۔ہم سب مسلمان ہیں اور یہ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے۔میں نے کہا کہ وہ بات درست ہے۔آپ بس جواب دیں اور کار لے لیں۔استاذ صاحب نے قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ محمد رسول اللہ اونچی آواز سے پڑھی اور کہا کہ دیکھو یہ آیت بتا رہی ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ہمارے ایک معلم صاحب کہنے لگے استاذ صاحب جو شخص آنحضرت سلام کی نبوت پر ایمان نہیں لاتا، کیا وہ قرآن پر ایمان لائے گا۔کیا ایک غیر مسلم کے لئے قرآنی آیت قابل قبول ہے۔اس پر استاذ صاحب بڑے پریشان ہو گئے۔انہیں کوئی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔سب لوگ ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ان کا سارا علم اور عربی زبان کا رعب ودبدبہ رفو ہو چکا تھا۔اس کے بعد میں نے انہیں پوچھا یہ بتائیں کیا قرآن پاک اللہ تعالی کی کتاب ہے؟ کہنے لگے، بے شک اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔پھر وہی بحث شروع ہوگئی کہ جو شخص آنحضور صلی اللہ تم پر ایمان نہیں لاتا، وہ کیسے آپ کی لائی ہوئی کتاب پر ایمان لاسکتا ہے۔استاذ صاحب کی حالت قابل دید تھی۔اس پر کہنے لگے کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے۔آپ ہمیں بتا دیں۔میں نے حضرت مصلح موعود کی کتاب دیباچہ تفسیر القرآن کی روشنی میں آنحضور صلی لا السلام کی صداقت پر روشنی ڈالی اور قرآن پاک کے منجانب اللہ ہونے پر بھی دلائل دیئے۔اس کے بعد تو وہ استاذ ایک ہفتہ تک کلاس میں رہا۔اب اس کی کیفیت ایک طفل مکتب کی طرح تھی۔آخری روز کہنے لگا کہ خدا کی قسم میں نے سعودی عرب میں تو صرف عربی زبان ہی پڑھی ہے۔دین کی الف باء تو اس کلاس میں ہی آکر پڑھی اور سنی ہے اور اس نے بیعت بھی کر لی۔223