ارضِ بلال — Page 222
ارض بلال۔میری یادیں ) کے مطابق ادا کرتے۔اللہ تعالیٰ نے فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت بھی عطا فرما دی۔افسوس کہ جوانی میں ہی بیمار ہو گئے۔بیماری نے شدت اختیار کر لی۔انہیں ڈاکار ،سینیگال میں لایا گیا۔ان دنوں چونکہ میں سینیگال میں ہی تھا۔اس لئے مجھے بھی ان کی خدمت کی کچھ تو فیق ملی۔لیکن عمر نے وفا نہ کیا ور ڈا کار میں ہی ان کا وصال ہو گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔استاذ سعودی عرب سے قادیانیت کی خاص ڈگری لے کر آیا ایک دفعہ ڈاکار میں ایک تربیتی کلاس تھی۔اس میں ملک بھر سے نومبائعین شریک تھے۔ان شرکاء میں ایک نوجوان عربی استاذ پہلی بار آئے تھے۔مجھے استاذ احمد گئی صاحب نے بتایا کہ یہ استاذ سعودی عرب سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہے اور وہاں پر یہ خصوصی طور پر قادیانیت کا مضمون پڑھ کر آیا ہے اور حال میں ہی یہ سعودیہ سے آیا ہے۔اس کے علاقہ میں اس کے بعض دوست احمدی ہو گئے۔جب اسے معلوم ہوا تو اسے بہت تکلیف ہوئی اور ان سے سخت ناراض ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ہم ایک تربیتی کلاس میں ڈا کار جا رہے ہیں۔اگر تم اپنے سوالات کے جواب چاہتے ہو تو بہتر ہے ہمارے ساتھ چلو اور از خود اپنا اطمینان کر لو۔اس پر وہ نوجوان استاذ بھی تربیتی کلاس میں ڈاکار آ گیا۔میں نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں کافی تعصب بھر اہوا تھا۔جب بھی سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوتا تو وہ سب شرکاء کلاس کا لیڈر بن کر خوب سوال کرتا۔ہم لوگ حسب علم اسے جواب دیتے رہے۔اسی طرح چند دن گزر گئے۔لیکن اس کی شدت میں کمی نہیں آرہی تھی۔ہر روز اس کے اعتراضات میں تیزی پیدا ہورہی تھی کیونکہ وہ سمجھنے کی کوشش تو کرتا ہی نہیں تھا۔اعتراض برائے اعتراض ہی کرتا تھا۔حالانکہ ایسے لوگوں کے بارے میں میرا سابقہ یہی تجربہ تھا کہ تربیتی کلاس میں آنے والے غیر از جماعت احباب بھی چند دن کے بعد راہ راست پر آجاتے تھے لیکن یہ استاذ تو اپنے بغض وعناد میں اور بڑھ رہا تھا۔ایک روز میں نے سوال جواب کا سلسلہ شروع کیا تو میں نے کہا کہ آپ لوگ روزانہ مجھ سے 222