ارضِ بلال — Page 213
ارض بلال۔میری یادیں پروگرام کے بارے میں بتایا۔اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور پوچھنے لگے، کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہم لوگوں کو بھی اپنے ساتھ سینیگال لے جائیں۔میں نے ان کو بتایا کہ سینیگال کے جس علاقہ میں میں جار ہا ہوں اس علاقہ میں سفر کافی مشکل ہے، کیونکہ راستہ میں نہ تو مناسب خوراک کا انتظام ہے اور نہ ہی رہائش کا اس لئے آپ دوستوں کو بہت پریشانی ہوگی۔بھٹی صاحب کہنے لگے کہ آپ ہماری طرف سے بے فکر رہیں، آپ کو اس سلسلہ میں کوئی پریشانی نہ ہوگی اور نہ ہی ہم کسی قسم کی شکایت کریں گے۔اس سفر میں ہم لوگوں نے دور دراز علاقوں میں پندرہ سے زائد مقامات کا دورہ کیا۔ہر مقام پر چھوٹے چھوٹے جلسے کیے جن میں ان معزز مہمانوں نے تقاریر کیں۔اس طرح اس دورہ سے دوطرفہ فائدہ ہوا۔سینیگال کے احمدی بھائی اپنے معزز مہمان بھائیوں سے مل کر خوش ہورہے تھے۔جبکہ مکرم بھٹی صاحب اور رانا صاحب اس لئے خوش تھے کہ انہیں بھی سینیگال کے اس دور دراز علاقہ میں پیغام حق کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔اس چار پانچ دن کے دورہ میں ستر سے زائد بیعتیں بھی حاصل ہوئیں۔اس سفر کے دوران مکرم بھٹی صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان کے بہت سے اوصاف حمیدہ کا علم ہوا۔آپ کو اس سفر میں جو ان کا اس علاقہ میں اس سخت نوعیت کا پہلا سفر تھا نہایت صبر اور ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنے والا ، ہر قسم کی خدمت کو بخوشی قبول کرنے والا اور ہر امر میں اطاعت کرنے والا پایا۔دعوت الی اللہ مکرم بھٹی صاحب کو دعوت الی اللہ کا بہت زیادہ شوق تھا۔اس سلسلہ میں بے شمار واقعات لکھے جاسکتے ہیں مگر ایک واقعہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔یہ واقعہ ان کے دعوت الی اللہ کے جذ بہ اور شوق اور اطاعت خلافت کی ایک درخشندہ مثال ہے۔1992ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ” نے الہی منشاء کے تحت عالمی بیعت کا اعلان فرمایا اور جملہ جماعتوں کو اس سلسلہ میں دعوت الی اللہ کی پر زور اور پر شوکت الفاظ میں تحریک فرمائی۔جس کے نتیجہ میں ہر کس و ناکس حسب توفیق و استطاعت دعوت 213