ارضِ بلال — Page 178
ارض بلال- میری یادیں ) افریقی چولہ زیب تن کئے جو استری کے نام سے بھی آشنا نہیں لیکن اس شخص کے دل کے اندر حضرت امام مہدی علیہ السلام اور ان کے مقدس خلفاء کے ساتھ پیارو محبت کا ایسا گہرا رشتہ ہے کہ ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب ہاتھوں میں لئے پھر رہا ہے۔بس تلاوت قرآن کریم ہے یا کسی مسجد کے مصلی پر یا کسی کے ساتھ محو تبلیغ۔جبکہ اس ہماری دنیا میں کروڑھا اُجلے اُجلے لباس اور اعلیٰ پوشاکیں پہنے والے بھی اس قلب صافی کی نعمت غیر مترقبہ اور رحمت بے بدل سے نا آشنا ہیں۔استاذ یوبی باہ کا تعلق گیمبیا کے ایک معروف قبیلہ فولانی سے تھا۔اپنے آبا ؤ اجداد کی طرح ان کا تعلق بھی گیمبیا، سینیگال کے ایک معروف مذہبی فرقہ تیجانیہ سے تھا۔ابتدائی مذہبی تعلیم اسی فرقہ کے مدارس سے ہی حاصل کی جس کی وجہ سے عربی زبان بولنے میں خاصی مہارت رکھتے تھے۔خدا تعالی نے آپ کو مختلف زبانیں بولنے کا ملکہ عطا کر رکھا تھا۔اس لئے انگلش ، منڈ نکا، فولا اور وولف زبان بھی بول لیتے تھے جس کی وجہ سے آپ جلسہ سالانہ گیمبیا کے موقع پر تقاریر کی ترجمانی کے فرائض بڑی خوش اسلوبی سے کیا کرتے تھے۔تعارف تیجانی فرقہ تیجانی فرقہ افریقہ کے بہت سے ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔اس کے بانی حضرت شیخ احمد تیجان ہیں۔الجزائر کے عین المادی نامی شہر میں 1737ء پیدا ہوئے اور انہوں نے اس فرقہ کی بنیاد رکھی۔سینیگال اور گیمبیا کی اکثر آبادی کا تعلق اسی فرقہ سے ہے لیکن اس طریقہ کے لوگ بہت سے چھوٹے چھوٹے گروپس میں بٹ چکے ہیں۔ان میں سے چند ایک معروف خلفا اور ان کے مراکز کو نخ شہر میں ہیں۔ان کے خلیفہ ابراہیم نیاس تھے۔ان کی وفات کے بعد اب یہ گروپ اس شہر میں دوشاخوں میں بٹ گیا ہے۔ان میں سے ایک کا مرکز مدینہ مبائی نیاس اور دوسرے کا مرکز اسی شہر میں نے اسن کے نام سے جانا جاتا ہے۔مدینہ مبائی نیاس زیادہ طاقتور ہے۔اس کے علاوہ چناب، تیواؤن، نیورو مدینہ گناس وغیرہ دیگر تیجانی خلفا کے مراکز ہیں۔اگر چہ 178