ارضِ بلال — Page 172
ارض بلال- میری یادیں ) اب آپ اس زمانہ کے مشکل حالات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کم مائیگی اور بے نفسی کا جائزہ لیں اور اس کے ساتھ آپ کے اس خدائی وعدہ کے اعلان پر غور کریں تو ایک عام دنیا دار شخص تو اس اعلان کو محض ایک دیوانگی سے ہی تعبیر کر سکتا ہے۔لیکن اہل اللہ جانتے ہیں کہ اگر اس الہام کے الفاظ پر غور فرمائیں تو اس میں لفظ میں، پر بہت زور ہے۔یعنی اس میں خدا تعالیٰ نے از خود اس مشن کی تکمیل کا وعدہ فرمایا ہے اور بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ دست غیب سے ایسے اسباب پیدا فرمائے گا انسانی فکر اور تدبیر سے بہت بالا ہوں گے۔اور پھر اس کی ایک خوبصورت ، دلچسپ اور ایمان افروز داستان ارض گیمبیا میں ظہور پذیر ہوئی۔الحاج فرمان سنگھاٹے صاحب پیشگوئی کے پہلے مصداق مجھے یہ بات مکرم داؤد احمد حنیف صاحب نے بتائی ہے کہ 1966 ء میں ان کی تقرری گیمبیا کے لئے ہوئی۔گیمبیار وانگی سے قبل آپ عارضی طور پر دفتر تبشیر ربوہ میں کام کر رہے تھے، جب اہل گیمبیا کو برطانیہ نے آزادی دینے کا فیصلہ کیا اس وقت چار نام اس ملک کے گورنر جنرل کے طور پر زیر غور تھے۔ان میں سے ایک نام الحاج فرمان سنگھائے صاحب کا بھی تھا۔سنگھاٹے صاحب نے مرکز میں دعا کے لئے ایک خط لکھا اور اس میں بتایا کہ میرا نام بھی گورنر جنرل کے لئے زیرغور ہے اس کیلئے دعا کی درخواست ہے۔اس پر مرکز میں ان کے لئے دعا کی گئی اور بقول مکرم داؤ داحمد حنیف صاحب کے ان کے قیام ربوہ کے دوران ہی ان کے گورنر جنرل بننے کی خوشخبری ربوہ میں ہی مل گئی اور حضرت مسیح الزمان علیہ السلام کی پیشگوئی بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے، بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہوگئی۔جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے 172