ارضِ بلال

by Other Authors

Page 171 of 336

ارضِ بلال — Page 171

ارض بلال۔میری یادیں انسان کی بات قابل حجت نہیں ہے۔حضور علی السلام نے یہ سن کر بے ساختہ فرمایا کہ آپ کا یہ اعتقاد معقول اور ناقابل اعتراض ہے لہذا میں آپ کے ساتھ بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا۔حضور عل السلام کا یہ فرمانا تھا کہ لوگوں نے دیوانہ وار شور مچادیا کہ ہار گئے۔جو شخص آپ کو ساتھ لے گیا تھا وہ بھی سخت طیش سے بھر گیا اور کہنے لگا کہ آپ نے ہمیں ذلیل ورسوا کیا مگر آپ تھے کہ کوہ وقار بنے ہوئے تھے۔آپ کو لوگوں کے شور وشر کی مطلقا پروانہ تھی۔آپ نے چونکہ یہ ترک بحث خالصتا اللہ اختیار کی تھی اس لیے رات کو اللہ تعالیٰ نے اس پر خاص اظہار خوشنودی کرتے ہوئے الہاماً فرمایا: خدا تیرے فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ برامین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 622) اس کے بعد عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے جو چھ سات سے کم نہ تھے اور گھوڑوں پر سوار تھے۔سنت الہی اسی سنت قدیمہ کے مطابق جب آپ علیہ السلام نے دعوی ماموریت فرمایا تو ہر طرف سے کفر و تکفیر کے فتوے لگنے شروع ہو گئے۔نعوذ باللہ اس وہم و گمان کے ساتھ کہ ہم بہت جلد اس انسانی ہاتھوں کے لگائے ہوئے پودے کو اکھاڑ کر دم لیں گے۔اس وقت کی دردناک کیفیت کا اندازہ آپ علیہ السلام کی تحریرات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔لیکن ان مشکل ایام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور پھر نہ صرف پیغام کے زمین کے کناروں تک پہنچنے کی خبر دی بلکہ ایک اور بظا ہر خبر یہ دی کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔171