ارضِ بلال — Page 168
ارض بلال- میری یادیں ) اہل خانہ کے قیام کے سلسلہ میں کچھ قانونی پیچیدگیاں تھیں۔ان کے بارے میں کافی فکر تھی۔اس وقت خاکسار گاڑی پر اپنے گھر کی طرف آرہا تھا۔دل و دماغ بے شمار پریشان کن خیالات اور خوفناک صورت حال کا مسکن بنے ہوئے تھے۔اسی دوران میں نے گاڑی سڑک کے ایک طرف رو کی اور بے اختیار خدا تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعا کی کہ اے مولیٰ کریم فضل فرما اور اگر اس کی موت ٹل سکتی ہے تو ٹال دے اور اگر اس کا وقت اٹل ہے تو کم از کم 4 دن تک اس کی زندگی میں اضافہ فرما دے تاکہ یہ اپنے گھر میں جا کر تیرے حضور حاضر ہو۔لمبی دُعا کے بعد میں گھر کو روانہ ہوا۔گھر پہنچنے پر کیا دیکھتا ہوں کہ عبداللہ صاحب میرے صحن میں بیٹھے ہوئے ہیں اور مسکرا رہے ہیں اور کہنے لگے کہ امیر صاحب میں اب ٹھیک ہوں۔مجھے گھر بھجوا دیں میں نے ایک معلم کے ساتھ ان کو گھر بھجوا دیا۔ان کا گاؤں تقریباًڈا کار سے 250 کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔اس طرح وہ دوست اپنے گھر چلے گئے اور انہوں نے اپنے گاؤں میں جا کر سب دوستوں کو بتایا کہ جماعت احمد یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کچی جماعت ہے۔جب میں وہاں بیمار ہوا تو امیر صاحب نے میری بڑی مدد کی۔اس کے بعد کیا ہوا کہ چار دن بعد مجھے ایک معلم مکرم یوسف مارصاحب کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ مکرم عبداللہ صاحب آج اچانک بیمار ہو گئے تھے ان کو کو لخ ہسپتال میں پہنچایا گیا۔لیکن تھوڑی دیر بعد ان کا اسپتال میں انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا اليهِ رَاجِعُون۔یہ اللہ تعالیٰ کا عجیب احسان ہے کہ وہ اپنے کمز ورلوگوں کی دعاؤں کو بھی شرف قبولیت سے نوازتا ہے اور اس نے اپنے فضل سے بظاہر ناممک کو ممکن میں بدل دیا۔چل رہی ہے نیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج 168