ارضِ بلال — Page 167
ارض بلال۔میری یادیں میں شہر میں کسی کام کے سلسلہ میں گیا ہوا تھا کہ محمود صاحب کا فون آگیا کہ عبداللہ جالو واپس نہیں گئے کیونکہ وہ بیمار ہیں۔میں نے محمد کو بتایا کہ مریض کو نزدیکی کلینک میں لے جائیں اور دوائی لے دیں۔کچھ دیر بعد پھر فون آیا اور محمود صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ مریض کو گردن توڑ بخار کا حملہ ہوا ہے۔اس کا علاج یہاں ممکن نہیں ہے۔اسے Principal اسپتال میں لے جائیں۔اسے فور وہاں بھجوا دیا گیا۔ان دنوں یہ مرض بہت پھیلی ہوئی تھی اور بے شمار لوگ اس موذی مرض کا شکار ہو کر 24 گھنٹوں کے اندر اندر فوت ہو رہے تھے۔اس صورت حال سے خاکسار کو بہت زیادہ فکر لاحق ہوئی اور درج ذیل امور نے بہت پریشان کر دیا۔چونکہ میرے پاس سینیگال میں جماعت کی تبلیغ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔پولیس اسے ایک غیر قانونی فعل کا مرتکب گردان کر مجھے پس زنداں بھی ڈال سکتی تھی۔میں نے تربیتی کلاسوں اور میٹنگز کے لئے ایک غیر معروف جگہ کرایہ پر لی ہوئی تھی۔یہ مکان اگر چہ ڈا کار شہر میں تھا لیکن ہر قسم کی آبادی سے الگ تھلگ تھا۔یہ ایک کھیت کے اندر تھا جہاں بجلی نہیں تھی۔پانی کھیت کے کنویں سے مل جاتا تھا۔اس لئے کسی کو علم نہ ہوتا تھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔اس صورت حال میں اس نوجوان کی وفات کی صورت میں ممکن ہے معاندین جماعت اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔چونکہ عبداللہ صاحب نو مبائع ہیں اگر فوت ہو گئے تو اس علاقہ کے لوگ اپنی جاہلیت کے باعث بدشگونی لیں گے کہ یہ احمدی ہوا تھا اور تربیتی کلاس میں گیا اور ادھر ہی فوت ہو گیا۔کمزور ایمان والے لوگ متاثر ہوں گے۔پھر خدانخواستہ مکرم عبداللہ صاحب ڈاکار میں میرے ہاں فوت ہو گئے تو اس صورت میں میرے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔غیر قانونی تبلیغی پروگرام کی وجہ سے پولیس متحرک ہو جائے گی۔ہماری تبلیغ پر پابندی لگا سکتی ہے، مجھے ملک بدر کر سکتی ہے۔جنازہ ، ہسپتال سے سرٹیفکیٹ وغیرہ کے علاوہ اور بہت ساری مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔میرے پاس گیمبیا کا پاسپورٹ تھالیکن میرے 167