ارضِ بلال — Page 162
ارض بلال۔میری یادیں خورشید صاحب کیا میں نے آپ کو ” الیس اللہ “ کی انگوٹھی دی ہے؟ میں نے عرض کی حضور انور کے بندے پر بے حد احسانات اور عنایات ہیں لیکن ابھی تک انگوٹھی نہیں ملی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے واپس اپنے پاس بلایا اور اپنے میز کی دراز سے ایک انگوٹھی نکالی، اس پر دست مبارک پھیرا اور مجھے پہنا دی۔اس کے بعد میری اہلیہ کو بھی فرمایا آپ بھی ادھر آئیں آپ بھی مربی کی بیوی ہیں اور پھر انہیں بھی ایک انگوٹھی عنایت فرمائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس لطف و کرم کے بعد ہم شاداں و فرحاں اپنے گھر آگئے۔اب ایک دن کے بعد میری فلائٹ تھی۔میں نے زیادہ تر سفر کی تیاری کر رکھی تھی۔سفر میں تو آخر دم تک تیاری ہوتی رہتی ہے۔اب بقیہ تیاری میں لگ گئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے بعد تین دن بعد گھر سے سینیگال کے لیے روانگی کا پروگرام تھا۔اتفاق سے عین اسی روز صبح نو بجے کے قریب میرے بائیں باز و اور بائیں کندھے کی پچھلی جانب نیچے کی طرف درد شروع ہو گیا جس میں ہر گھڑی اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔میں نے لندن میں دفتر تبشیر میں فون کر کے اپنی اس صورت حال کے بارے میں بتایا۔مکرم عبدالماجد صاحب طاہر صاحب نے کہا فوری طور پر ایمبولینس کو بلائیں اور اسپتال پہنچیں۔اسی وقت میرے اہل خانہ نے ایمبولینس کو فون کیا۔ابھی فون بند نہیں کیا تھا کہ ایمبولینس ہمارے دروازے پر موجود تھی۔اللہ تعالیٰ اس گورنمنٹ کو جزائے خیر دے جس نے اپنے باشندوں کے لئے اسقدر فراخ دلی کے ساتھ ہر ممکن آسائش مہیا کر رکھی ہے۔میرے گھر پر ہی اس ٹیم نے ابتدائی چیک اپ کیا۔ابتدائی طبی امداد دی اور بعد ازاں قریبی اسپتال میں لے گئے۔وہاں جا کر جب تفصیلی معائنہ کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ یہ تو دل کا شدید حملہ تھا، تین نالیاں بند تھیں۔آپ تصور کریں ! میں نے لندن سے پرتگال کے شہر لز بن جانا تھا اور ادھر چند گھنٹے قیام کے بعد سینیگال کے دارلحکومت ڈا کار تک کا سفر کرنا تھا۔اگر میں سفر پر چلا جاتا اور دوران سفر تکلیف ہو جاتی تو پھر کیا ہونا تھا! یہ ایک ایسا نا قابل فراموش واقعہ ہے جس کے میرے دل و دماغ پر گہرے نقوش ہیں اور ہر سننے والا ہمارے پیارے آقا کے تعلق باللہ، الہی تائیدات اور خدائی راہنمائی کا گواہ بن جاتا 162