ارضِ بلال — Page 121
ارض بلال- میری یادیں ) ساری بات اسے بتائی اور کہا مجھے جبکنی صاحب سے مل کر یہ تعویذ حاصل کرنا ہے۔نمبر دار صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اب احمدی ہو گیا ہے اور اس نے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔لیکن اس آدمی نے بڑا اصرار کیا۔اس پر وہ نمبر دار مجبور ہو کر ایک خاصی بڑی رقم لے کر جبکنی صاحب کے پاس چلا گیا اور انہیں ساری بات بتائی۔جبکنی صاحب نے بتایا کہ میں آپ کا بڑا احترام کرتا ہوں لیکن یہ کام میں نہیں کرسکتا کیونکہ اب میں احمدی ہو چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی برکت سے میرے پر حق واضح کر دیا ہے اس لئے میں اس کام کو گناہ سمجھتا ہوں۔آپ جسقد ربھی بڑی رقم مجھے پیش کریں، میں یہ غلط کام نہیں کروں گا اس پر وہ اسمبلی کا ممبر مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔فدایان خلافت ی عشق و وفاکے کھیت بھی خوں پہنچے بغیر پہنچیں گے 1988 ء کی بات ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع " ایک بہت ہی اہم اور تاریخی دورہ پر گیمبیا تشریف لائے۔آپ کے ورود سعود پر ملک بھر میں بہت سے تبلیغی اور تربیتی پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ان میں سے ایک پروگرام کے مطابق آپ نے میرے مستقر فرافینی میں بھی تشریف لانا تھا اور یہاں کے کمیونٹی ہال میں آپ نے احباب جماعت سے خطاب فرمانا تھا۔یہ قصبہ سینیگال اور گیمبیا کے بارڈر پر واقع ہے۔اس لئے جلسہ میں شرکت کرنے والے سینیگالی احمدی مردوزن کی ایک بھاری تعداد بھی یہاں حاضر ہورہی تھی۔اس وجہ سے گیمبیا میں حضور انور کے دورہ کے دوران سب سے بڑا اجتماع فرافینی میں ہی متوقع تھا۔اس سلسلہ میں احباب جماعت فرافینی کو متفرق فرائض تفویض کئے گئے۔ڈاکٹر خلیل ینگاڈو صاحب جو ایک بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھے اور اپنے خاندان میں اکیلے ہی احمدی تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالی اعتبار سے فرافینی جماعت میں سب سے زیادہ کشائش عطا کی ہوئی تھی۔علاوہ ازیں ان کا مکان بھی بہت وسیع اور کشادہ تھا جس میں سینکڑوں لوگ بیک وقت سما سکتے تھے اس لئے 121