ارضِ بلال — Page 112
ارض بلال- میری یادیں ) ان دنوں اس علاقہ میں ایک عبد الشکور نامی ٹھیکیدار رہتے تھے جنہوں نے مختلف مقامات پر تعمیراتی ٹھیکے لے رکھے تھے لیکن مسجد سے ان کا رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔دراصل وہ کسی اور جگہ کے رہنے والے تھے لیکن ان کا کاروبار میانوالی کے علاقہ میں تھا۔اس لئے صرف کام کے لئے میانوالی آتے تھے اور اس کے بعد اپنے شہر میں ہی چلے جاتے۔مجھے چند دوستوں نے کہا کہ مکرم عبد الشکور صاحب بہت امیر آدمی ہیں۔اگر ان سے رابطہ قائم کیا جائے تو امید ہے وہ ہمیں پانچ ہزار روپے کے قریب رقم دے دیں گے جس سے ہمارے کام میں خاصی معاونت ہو جائے گی۔اس پر کافی عرصہ تک ہم لوگ ان کے ساتھ رابطہ کی کوشش کرتے رہے مگر ملاقات نہ ہوسکی کیونکہ وہ اکثر و بیشتر اپنے کاموں کے سلسلہ میں باہر ہی رہتے تھے۔ایک روز خاکسار ایک مخلص خادم مکرم چوہدری منیر الرحمن صاحب کے ساتھ کچہری میں گیا ہوا تھا۔وہاں پر مکرم عبدالشکور صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ان سے تعارف کے بعد ہم نے مسجد کے پراجیکٹ کے بارے میں انہیں تحریک کی ، انہوں نے پچاس روپے دینے کا وعدہ کیا۔ہم لوگ تو پانچ ہزار روپے کا تخمینہ ان کے ذمہ ذہنی طور پر لگائے بیٹھے تھے۔ان کے اس جواب سے ہماری خاصی دل شکنی ہوئی اور مایوس بھی کیونکہ ہم نے اس شخص سے بہت امید وابستہ کر رکھی تھی لیکن اس نے تو صاف جواب دے دیا ہے۔بہر حال قدرے مایوسی ہوئی۔اسی روز شام کے وقت مکرم بشیر احمد صاحب صدر جماعت میانوالی کے ہمراہ کسی کام کی غرض سے ائیر فورس کالونی میں گئے۔وہاں پر ایک بہت ہی مخلص احمدی دوست مکرم ملک عبد الشکور صاحب گروپ کیپٹن رہتے تھے۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھیں! ملک صاحب نے ملتے ہی بتایا مربی صاحب مبارک ہو! میرے ایک دوست مکرم ڈاکٹر عبدالشکور آف سرگودھا نے پانچ ہزار روپیہ مسجد احمد یہ میانوالی کیلئے بھجوایا ہے۔ہم سب لوگ اس واقعہ سے حیران رہ گئے۔لگتا ہے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمارکھا تھا کہ آپ کو پانچ 112