ارضِ بلال — Page 106
ارض بلال۔میری یادیں میں تفصیل سے بتائیں۔اس کے بعد ہم لوگ دریا پر پہنچ گئے۔کافی انتظار کیا مگر موڈ و صاحب نہ آئے۔اب رات گزارنے کا مسئلہ تھا۔ہم قریبی آبادی کے امام کے پاس چلے گئے اور اسے بتایا کہ ہم مسافر ہیں، رات بسر کرنی ہے۔کہنے لگا میرے پاس تو کمرہ نہیں ہے۔ہم نے کہا۔ہم لوگ کہیں بھی لیٹ جائیں گے۔ہمیں صرف اندر آنے کی اجازت دیدیں۔اللہ اس کا بھلا کرے، وہ مان گیا۔اس نے ہمیں ایک برآمدہ دکھا دیا اور کہا اگر اس میں سو سکتے ہیں تو سو جائیں۔خیر ہمارے لئے یہ بھی بڑی غنیمت تھی۔تھکاوٹ سے برا حال ہو چکا تھا اس لئے جلد سو گئے۔کہتے ہیں نیند آئی ہو تو پھر آپ جہاں بھی ہوں جیسے بھی ہوں آنکھ لگ ہی جاتی ہے۔صبح اٹھے دوبارہ دریا کے کنارے پر چلے گئے۔ادھر موڈ وسار صاحب سے ملاقات ہو گئی۔رات کو کشتی نہ ملنے کے باعث نہ آسکے تھے۔اللہ کا شکر ادا کیا۔مایوسی خوشی میں بدل گئی اس کے بعد ہم لوگ بیگے سوہ کے گاؤں کر اسماں میں چلے گئے۔یہ بہت چھوٹا سا گاؤں تھا ، بہت تھوڑی آبادی تھی۔بیگے سوہ صاحب نے ہمارا اپنے گاؤں کے لوگوں سے تعارف کرایا اور اسکے بعد گزشتہ رات کا سارا واقعہ بیان کیا۔بعد ازاں تبلیغی میٹنگ ہوئی۔گاؤں کے تقریباً سبھی لوگ آگئے۔پھر خاکسار اور معلمین نے جماعت احمدیہ اور اس کی تعلیم کے بارے میں مختصر تقاریر کیں، کچھ سوال وجواب ہوئے۔خدا تعالیٰ نے پروگرام میں بہت برکت ڈالی اور اس کے نتیجہ میں سارا گاؤں احمدی ہو گیا۔میں نے دونوں معلمین کو اسی جگہ پر کچھ عرصہ کے لئے چھوڑ دیا جنہوں نے مزید تعلیم وتربیت کے کام کا آغاز کیا۔پھر بفضلہ تعالیٰ یہ گاؤں ہماری جماعت کا اس علاقہ میں مرکز بن گیا۔پھر وہاں سے علاقہ بھر میں تبلیغ کا آغاز ہو گیا اور ایک سال کے اندر اس علاقہ میں اٹھارہ جماعتیں قائم ہو گئیں اور پھر اس گاؤں کے ذریعہ سے ہی موریطانیہ میں بھی بیعتیں ہوئیں کیونکہ ان 106