عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 86 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 86

یعنی بسا اوقات شعراء کسی مشہور قول کو لے کر بلا مضائقہ اسے اپنے اشعار میں استعمال کر لیتے ہیں جیسے وھب بن الحارث بن زھرہ کا یہ شعر ہے: تَبْدُو كَواكِبُهُ وَالشَّمْسُ طَالِعَة تُجْرَى عَلَى الْكَاسِ مِنْهُ الْصَابُ وَالْمَقرُ اس میں سے نابغہ نے پہلا مصرعہ لیتے ہوئے یہ شعر لکھا ہے: تَبْدُو كَواكِبُهُ وَالشَّمْسُ طَالِعَة لَا النُّورِ نُورٌ وَلَا الْإِظْلَامِ إِظْلَامٌ (كتاب الصناعتين أبو هلال الحسن بن عبد الله الباب السادس في حسن الفصل الأول في حسن الأخذ) الأخذ ان ابیات میں جو صنف بیان ہوئی ہے اسے تضمین کہتے ہیں اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں بھی پائی جاتی ہے۔اشتراک لفظی، تضمین اور توارد شعراء کے کلام میں کثرت سے پایا جاتا ہے اور اس میں سرقہ کا کوئی دخل نہیں ہو تا۔جیسا کہ سطور بالا میں شعراء کے کلام میں سے دی گئی بعض مثالوں سے بات واضح ہو جاتی ہے۔چنانچہ ابن رشیق ”العمدہ“ میں لکھتا ہے: وَسُئِلَ أَبُو عَمْرُو بْنُ العَلاء: أَرَأَيْتَ الْشَاعِرَينَ يَتَّفِقَانِ فِي المَعْنَى وَيَتَوَارْدَانِ فِي اللَّفْظِ لَمْ يَلْقَ واحِدٌ مِنْهُمَا صاحِبَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ شِعْرَهُ؟ قَالَ: 86