عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 60
ان میں سے اگر کوئی کسی رائے کے بارے میں اس یقین پر بھی پہنچ جائے کہ وہ رائے سب سے زیادہ درست ہے تب بھی اسی معاملہ میں کوئی عام آدمی بغیر تحقیق کیے بآسانی کہہ سکتا ہے کہ ایک رائے اس موقف کے خلاف بھی ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نحو اور اس کے قواعد میں سے کوئی قاعدہ بھی دو یا اس سے زیادہ متضاد آرا سے خالی نہیں ہے۔(مشخص از صریح الرأي في النحو العربي داؤه و دواؤه المقالة الأولى للأستاذ عباس حسن) علم نحو کے اصول کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں دو معروف مدر سے بصری اور کوفی میں بھی حد درجہ اختلاف ہے۔کوفی تو ہر چیز کو لے لیتے ہیں چاہے اس کے بارے میں صرف ایک مثال ہی مذکور ہوئی ہو ، اس لیے انہوں نے قرآن کریم کی قراءات کو بھی بطور حجت اخذ کیا ہے۔لیکن بصری کہتے ہیں کہ محض ایک مثال سے کوئی فصیح نہیں کہلا سکتی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کوئی معیار یا تعداد بھی مقرر نہیں کی جس کی بنا پر کسی لغت کو فصیح یا غیر فصیح قرار دیا جاسکے۔یہ اختلاف بذات خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال کی صداقت کا اعتراف ہے کہ قواعد صرف و نحو کوئی شرعی حجت نہیں ہیں کہ *09