عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 49
اگر کسی زبان میں دوسری زبان کا کوئی لفظ قابل قبول سمجھا گیا ہو اور قبل ازیں بلغائے قوم کی طرف سے شعر و نثر میں استعمال کیا گیا ہو تو یہ لفظ فصیح سمجھا جائے گا۔ایسے الفاظ خواہ کیسے ہی شاذ اور غیر مشہور ہوں اگر ان کا استعمال کاتب کے ذاتی ارادے سے ہوا ہے اور ایسا اس نے اپنی قلت علمی یا مناسب لفظ کی عدم موجودگی کی صورت میں نہیں کیا تو ایسا لفظ فصاحت و بلاغت کی ذیل میں ہی لکھا جائے گا۔نتیجہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے عربی کلام میں بھی اگر کوئی ایسے کلمات پائے جائیں تو ان کے ارد گرد استعمال ہونے والے کلمات اور عبارات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قدر بے ساختگی کے ساتھ بلاغت و فصاحت اور مسمع و متقی عبارات کا دھارا بہ رہا ہے، ایسے میں اگر کوئی ایسا لفظ یا ترکیب استعمال ہوتی ہے جو بظاہر کسی دوسری قوم کی زبان کی ہے تو ایسے بے ساختہ استعمال کی وجہ سے کاتب نے اسے اس زبان کا حصہ بنا لیا ہے اور اس پر اعتراض کرنے والا فصاحت و بلاغت کے مناہج سے ناواقف اور ایسے اسالیب سے غافل و جاہل قرار پائے گا۔49