عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 13
حضور علیہ السلام کا دعوی وسعت علمی اور اس کی تعریف حضور علیہ السلام کی عربی کتب میں مذکورا علی علمی دقائق و معارف کے علاوہ، لغات و محاورات ،عرب ، ادبی نکات اور تراکیب واسالیب وغیرہ آپ کے خدا تعالیٰ کی طرف سے عربی زبان میں کامل وسعت علمی عطا ہونے کی ایک جھلک ہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: حکمیہ پر مکمل ہیں بغیر اس قدر تصانیف عربیہ جو مضامین دقیقہ علمیہ کامل وسعت علمی کے کیونکر انسان ان کو انجام دے سکتا ہے۔“ (نزول المسیح، روحانی خزائن ، جلد ۱۸ صفحه ۴۴۰) اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی تحریرات وسعت علمی کی عکاس ہیں اور آپ علیہ السلام کی عربی زبان کی حقیقت جاننے کے لیے گہرے علمی ذوق اور بہت ساری کتب کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔کامل وسعت علمی کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے خود ہی اس کی تعریف فرمائی ہوئی ہے۔فرمایا: ”جب تک (۱) زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اور (۲) جاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور (۳) کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو 13