عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 8
حضور علیہ السلام کا عربی زبان میں کمال حاصل کرنے کا دعویٰ آئیے ہم حضور علیہ السلام کے اپنے اقوال سے آپ کے اس دعویٰ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک مقام پر اجمالی رنگ میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ كَمَالِي فِي النِّسَانِ الْعَرَبِي، مَعَ قِلَّةِ جُهْدِي وَقُصُورٍ طَلَبِي، آيَةٌ وَاضِحَةٌ مِنْ رَبِّي، لِيُظهِرَ عَلَى النَّاسِ عِلْمِي وَأَدَبِي، فَهَلْ مِنْ مُعَارِضَ فِي جُمُوعِ الْمُخَالِفِيْن؟ (مكتوب احمد ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۳۴) یعنی عربی زبان میں قلت جہد اور معمولی جستجو کے باوجود میر اکمال حاصل کرنا میرے رب کی طرف سے واضح نشان ہے، تا کہ وہ لوگوں پر میرا علم اور ادب ظاہر فرمائے۔پس مخالفین کے گروہ میں کوئی ہے جو اس امر میں میر امقابلہ کر سکے ؟ اس دعوی کی تفصیل حضور علیہ السلام نے مختلف مقامات پر مختلف الفاظ میں بیان فرمائی۔,, ایک جگہ فرمایا: و أُعْطِيتُ بَسْطَةٌ كَامِلَةً فِي الْعُلُومِ الأَدَبِيَّةِ۔“ (مكتوب احمد، روحانی 66 خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۳۴)