عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 112
چرائے گئے ہیں۔سو عزیز من! اس کے جواب میں یہ گزارش ہے کہ یہ شغل عاجز نہ ادیب، نہ شاعر اور نہ اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتا ہے اور نہ اس میں کوئی حصہ عمر کا بسر کیا ہے۔اور نہ ان عبارتوں اور اشعار کے لکھنے میں کوئی معتد بہ وقت خرچ ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ تحریریں معمولی خطوں کی طرح اپنی اوقات معمورہ میں سے ہر روز ایک دو گھنٹہ نکال کر لکھی گئی ہیں۔اور ساتھ ساتھ کاپی نویس لکھتا گیا۔اور اگر کبھی اتفاقا پورا دن ملا تو ایک ایک دن میں سو سو شعر طیار ہو گیا۔اور وہ بھی پورا دن نہیں کیونکہ اگر آپ اس جگہ آکر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ دن رات کس قدر مشغولی ہے۔خطوط کا یہ حال کہ کبھی تین سو کبھی چار سو کبھی پانچ سو ماہوار آجاتا ہے۔اور بعض خطوط کا جواب رسالہ کی طرح لکھنا پڑتا ہے۔مہمانداری کا یہ حال ہے کہ ایک جہان توجہ کر رہا ہے ایک قافلہ مہمانوں کا ہمیشہ رہتا ہے۔اور عجیب عجیب صاحب کمال، مدنی، شامی، مصری اور اطراف ہندوستان سے آتے ہیں۔اور بباعث رعایت حق ضیف بہت حصہ وقت کا ان کو دینا پڑتا ہے۔عمر کا یہ حال ہے کہ پیرانہ سالی ہے۔ضعیف الفطرت ہوں علاوہ اس کے دائم المریض اور ضعف دماغ کا یہ حال ہے کہ کتاب دیکھنے کا اب زمانہ نہیں جو کچھ خیال میں گزرا وہ لکھ دیا یا لکھا دیا۔112