عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 111
خلاصہ بحث اسلامیہ کالج لاہور کے پروفیسر مولوی اصغر علی صاحب نے بھی حضرت بانی جماعت احمدیہ کی عربی دانی پر اعتراض کیا اور اپنے خط میں انہی اعتراضات کا ذکر کیا جو اس وقت کے مولوی حضرات اور حضور علیہ السلام کے دیگر مخالفین کی زبانوں پر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مورخہ ۳ اپریل ۱۸۹۴ء کو اس مکتوب کا مفصل جواب دیا جس میں مختصر مگر جامع انداز میں ان تمام اعتراضات کے جوابات عطا فرمائے۔ذیل میں ہم حضور علیہ السلام کے اس جامع و مانع جواب کو اس سارے مضمون کے خلاصہ بحث کے طور پر پیش کرتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں: د السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔بعد ہذا آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔آپ کی یہ صفت قابل تعریف ہے جو آپ اس گروہ میں سے نہیں ہیں جو محض جلد باز ہیں اور تعصب کے رو سے ایک مسلمان کا نام کافر اور دجال اور بے ایمان بلکہ اکفر کہتے ہیں۔اور معلوم ہو ا کہ آپ کی تحریر اس غرض سے تھی کہ بعض مقامات پر حمامۃ البشری میں صرفی یا نحوی یا عروضی غلطی ہے۔اور نیز آپ کی دانست میں بعض مضامین یا فقرات یا اشعار اس کے *1117