عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 103
اوپر کی بحث پر غور کرنے سے اجمالی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے تمام اہم اعتراضات کا خود بخود رڈ ہو جاتا ہے۔اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان کے بارے میں آپ کے دعویٰ کا صحیح علم ہو جائے اور اسے مفصل طریق پر پیش کر دیا جائے تو ان سابقہ اعتراضات کے علاوہ نئے اعتراضات کا جواب دینے میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً ایک نیا اعتراض یہ ہوا ہے کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ کے شروع میں تقریباً ڈیڑھ صفحہ کا عربی زبان میں تمہیدی نوٹ لکھا ہے۔اسے پڑھ کر بعض جلد باز معترضین کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے عربی زبان سیکھنے کا اعلان تو کئی سال بعد کا ہے جبکہ برائین کے زمانے سے آپ تو اچھی عربی جانتے تھے۔اس لیے الہامی طور پر عربی سیکھنے کا اعلان ذہن کی اختراع ہے۔الجواب : سبحان اللہ۔ایک طرف اعتراض ہے کہ آپ علیہ السلام کی تمام ریریں مسروقہ ہیں اور دوسری طرف اعتراف کہ حضور علیہ السلام دعویٰ سے پہلے ہی اچھی عربی جانتے تھے۔یہ اعتراض اسی طرح کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بعض معترضین نے کیا جب انہوں نے ایک طرف سرقہ شدہ عبارتیں استعمال کرنے کا الزام لگایا تو دوسری طرف یہ اعتراض کیا کہ شامی اور عربی اشخاص سے یہ کتب لکھوائی ہیں۔1037