اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 1
1 حضرت سیدنا مصلح موعود سید نا محمود المصلح الموعود (۱۸۸۹ء ۱۹۲۵ء) دست قدرت کا عالمی شاہکار تھے، جن کی زندگی کے انوار و تجلیات کا نقشہ مضور خدا نے آپ کی ولادت سے چار برس قبل الہامی الفاظ میں کھینچ دیا تھا۔حضور نے ۱۹۳۶ء میں فرمایا :- " حضرت خلیفہ اول۔۔۔۔کی خلافت سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ کے الہام سے فرمایا تھا کہ میں خلیفہ ہوں گا۔پس میں خلیفہ نہیں موعود خلیفہ ہوں۔میں مامور نہیں مگر میری آواز خدا کی آواز ہے۔“ ( رپورٹ مشاورت ۱۹۳۶ء صفحہ ۱۷) پھر دعوی مصلح موعود کے معا بعد اعلان کیا :- وہ لوگ جن کا میرے ساتھ محبت اور اخلاص کا تعلق ہے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خدمات میں میرا ہاتھ بٹانے کی توفیق عطا فرمائی ہے ان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جب مجھ کو پالیا تو وہ حضرت مسیح موعود کے صحابہ سے جاملے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک نیا باب کھول کر اپنی عظیم الشان رحمتوں سے ہمیں نوازا ہے۔رپورٹ مشاورت ۱۹۴۲ صفحه ۶۰۵) راقم الحروف ۱۹۳۵ء کے آخر میں اپنے والد حافظ محمد عبد اللہ صاحب کے ساتھ پہلی مرتبہ پنڈی بھٹیاں سے قادیان حاضر ہوا۔دیار حبیب کی زیارت ، قدوسیوں کا اجتماع دیکھا اور ۲۸ / دسمبر کو حضرت مصلح موعود کا روح پرور خطبہ عید الفطر سنے کی بھی سعادت پائی۔حضور پر نور نے یہ خطبہ عید گاہ میں پڑھا اور اس میں ارشاد فرمایا:۔میں چاہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو عید کا یہ تحفہ پیش کروں کہ ہمارا خدا کامل محبت ہے۔کوئی محبت اس کے مقابل پر نہیں ٹھر سکتی۔(الفضل مه جنوری ۱۹۳۶ صفح۲) یہ بھی محض اللہ جل شانہ کا احسانِ عظیم ہے کہ ۱۹۳۶ء ( یعنی مدرسہ احمد یہ قادیان میں داخلہ) سے لے کر ۱۹۶۵ ء تک کا زمانہ اس محبوب خدا اور خلیفہ موعود کا مبارک زمانہ پانے کی توفیق ملی