اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page iv of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page iv

صادقوں کے بادشاہ سید المرسلین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی مے نے آخرین میں ادارہ خلافت کے از سر نو احیاء کی واضح خبرا ثم تكون الخلافة على منهاج النبوة (مشكوة كتاب اعلم ) میں دی ہے جس کی ایک قرآت مجد داہلسنت علامہ علی القاری کی تحقیق کے مطابق ثم تكون خلافة “ بھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کے وصال کے بعد نبوت خلافت کی شکل میں نمودار ہوگی بالفاظ دیگر جمله خلفاء راشدین جو قیامت تک ظہور فرما ہوں گے رسول اللہ کی عکسی تصویریں ہوں گے اور ان کے وجود سے گویا گردشِ لیل و نہار صدیوں پیچھے پلٹ جائے گی اور زمانہ نبوی پھر عود آئے گا اور اس کی پر انوار جھلکیاں گل عالم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لے گا اسی لئے حضور پُر نور نے بارگاہ رب العزت میں دعا کہ اللهم ارحم خلفائى الذين ياتون من بعدى الذين يروون احادیثی و سنتی و يعلمونها الناس“ (طبرانی الاوسط بحوالہ " جامع الصغیر للسیوطی جلد اصفحہ ۶ مصری ) اس مبارک حدیث کا ترجمہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نافلہ موعود ذوالقرنین وقت کے قلم سے سیدنا رنا حسب ذیل ہے۔”اے میرے اللہ میرے نائبین اور میرے خلفاء پر رحم کر جو میرے بعد آئیں گے اور میری باتیں اور میری سنت دنیا کے سامنے بیان کریں گے اور میری باتیں اور میری سنت ہی دنیا کو سکھائیں گے۔( جلسہ سالانہ کی دعا ئیں صفوی ۱۰۴) تحریک احمدیت کے خلفاء خمسہ کی سیرت و شمائل کا یہ وہ جامع نقشہ اور لطیف خا کہ ہے جو خودشہنشاہ نبوت نے کھینچا ہے اور جیسا کہ خاکسار کے درج ذیل ذاتی اور چشمد ید واقعات سے بھی عیاں ہو جائے گا۔انشاء اللہ۔خلافت ثانیہ، خلافت ثالثہ اور خلافت رابعہ کے عالی پایہ اور عظیم الشان تاجداروں میں بھی اسی شان کی جلوہ گری ہوئی۔نہ صرف عالمگیر سطح پر بلک بھی اور ذاتی ماحول میں بھی۔