اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 21
18 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں جو نہی خفیہ طور پر یہ اطلاع ملی حضو نے اپنے اس ناچیز خادم کو حکم دیا کہ فوری طور پر ریسرچ کر کے مضمون لکھو کہ تمام قدیمی اسلامی حکومتوں میں قلعوں ،سکوں اور اہم عمارتوں مسجدوں بلکہ مزاروں پر چھے کونی ستارہ ہی قومی نشان کے طور پر استعمال رہا۔نیز یہ کہ صہونیت کا David Star بھی چھ کوئی ہے لیکن اسرائیلی حکومت نے اپنے جھنڈے پر مسلمانوں کی نقل میں چھ کوئی ستارے کو ترجیح دی چنانچہ حضور انور کی خصوصی توجہ اور زبر دست راہنمائی کے طفیل چند دن کے اندر اندر یہ تحقیقی مقالہ مرتب ہو گیا جس میں دیگر مثالوں کے علاوہ شاہی مسجد لاہور کے محرابی ستارہ کا بھی ذکر تھا اور رسالہ " لاہور نے یہ مقالہ یکم مارچ، 10 مئی اور 7 جون 1976ء کی تاریخوں میں زیب اشاعت کیا۔ابھی پہلی ہی قسط منظر عام پر آئی تھی کہ بھٹو حکومت نے سارا معاملہ ہی داخل دفتر کردیا انہی دنوں کشمیر اسمبلی کے چیف جسٹس یوسف صراف کے اعزاز میں تحریک جدید گیسٹ ہاؤس ربوہ میں ایک عشائیہ دیا گیا جس میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح نے بھی شرکت فرمائی اور دوران گفتگو میری طرف اشارہ کر کے یہ پورا واقعہ سنایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل نے یہ خطرناک منصوبہ پیوند خاک کر دیا۔فسبحان الذى اخرى الاعادي حضور کو چھ کوئی ستارہ کی تحقیق سے اس درجہ دلچسپی تھی کہ حضور نے اکتوبر 1980ء میں چین کی بیت الذکر بشارت کا اپنے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھا اور ساتھ ہی مسلم سپین کی جن عمارتوں پر چھ کوئی ستارہ دیکھا اس کے فوٹو لئے اور ربوہ پہنچنے کے بعد از راہ نوازی احقر کو بغرض ریکارڈ عطا فرما دیے۔اب مجھے خلافت ثالثہ کے ابتدائی ایام کا احوال بتاتے ہوئے یہ عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ امسح الثالث منصب خلافت پر منتخب ہوتے ہی قصر خلافت میں اقامت گزین ہو گئے اور آپ کی ذاتی لائبریری بھی منتقل کر دی گئی۔حضور نے ابتدا ہی میں اس کا انتظام عاجز کے سپر د کیا اور ارشاد فرمایا کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر سب کتابوں کو ترتیب دے دو۔چنانچہ خاکسار نے عصر تک ان کو مرتب