اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 20
17 اسلام اور گریگورین کیلنڈر کی روشنی میں ثابت کیا کہ قریش نے اپنی پارلیمنٹ ( دارالندوہ ) میں شہ لولاک رسول عربی عملے کے خلاف جو نا پاک فیصلہ کیا اس کی شمسی تاریخ بھی 7 ستمبر تھی۔اس مضمون پر بھی حضور نے خوشنودی کا اظہار کیا اور جلد ہی اسے رسالہ ”لاہور میں چھپوا دیا گیا جو حضور کی خصوصی توجہ کی برکت تھی۔یہ تحقیقی مقالہ الفضل انٹرنیشنل میں بھی چھپ چکا ہے۔7 ستمبر کے فیصلہ کے چند روز بعد حضور نے اس ناچیز کو یاد فرمایا۔حضور بالائی منزل میں رونق افروز تھے سامنے ایک میز پر درشین فارسی رکھی تھی۔فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں میں نے تمہیں فقط اس لئے بلوایا ہے کہ در شین کے ایک شعر پر میں نے باریک سا نشان لگا دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ شعر تم مجھے بھی سنادو بس اتنا کام ہے اس کے بعد تمہیں جانے کی اجازت ہے۔اس موقع پر نا چیز کو حضرت مسیح موعود مہدی مسعود کے جس فارسی شعر کا اپنے محبوب آقا کے حضور پڑھنے کا شرف حاصل ہو وہ یہ تھا۔بحمد اللہ، کہ خود قطع تعلق کرد ایں قومے خدا، از رحمت و احسان، میسر کرد خلوت را یعنی بجھ اللہ اس قوم نے ہم سے خود ہی قطع تعلق کر لیا ہے اور ہمیں ( خدمت دین ) کیلئے خلوت میسر آ گئی ہے۔قرآن عظیم نے خلیفہ راشد کی حقانیت پر دونشانوں کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے یعنی خوف کے بعد قیام امن اور تمکین دین اسی ضمن میں حضور کے ایک بے مثال کارنامہ کا ذکر کرتا ہوں جس کا علم جماعتی حلقوں میں شاید ہی کسی کو ہو۔واقعہ یہ ہوا کہ 1976ء کے آغاز میں بھٹو حکومت نے یہ اعلان کیا کہ جن پاکستانی مصنوعات پر چھ کوئی نشان ہے انہیں ضبط کر لیا جائے گا کیونکہ یہ اسرائیلی حکومت کا نشان ہے اس اعلان کا پس منظر یہ تھا کہ احراری دیو بندی علماء اور بھٹو صاحب کے گٹھ جوڑ سے یہ سازش کی گئی کہ نہ صرف لوائے احمدیت پر جس میں چھ کوئی ستارہ ہے قدغن لگا دی جائے بلکہ احمدیوں کو اسرائیلی ایجنٹ اور خلاف آئین قرار دیکر سلسلہ کے پورے مرکزی نظام پر قبضہ کر لیا جائے۔