عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 91 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 91

91 لئے چاند سورج گرہن کے جس آفاقی نشان کی خبر دی تھی وہ ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء میں نہایت آب و تاب سے ظاہر ہو گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے " نور الحان " میں انعامی چیلنج دیا کہ یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ آپ سے پہلے کسی شخص نے دعوی کیا ہو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور پھر اس کے زمانے میں رمضان میں چاند اور سورج کا ان مقررہ تاریخوں میں کسوف خسوق ہوا ہو اس چیلنج پر کتاب " رئیس قادیان میں چار اعتراضات کئے گئے۔* - اول یہ کہ حضرت مهدی موعود کے زمانہ کا گر سن قانون فطرت اور قاعدہ نجوم کے خلاف لگے گا۔جیسا کہ صاحبزادہ رسول عربی حضرت ابراہیم کی وفات کے دلی سورج گرہیں۔تاریخ کو لگا تھا حالانکہ مقرہ تاریخیں گر ین کی ۲۷۔۲۹-۲۸ ہیں۔- دوم آپکے زمانہ میں ہی مہدی سوڈانی موجود تھا مگر اس نے اسکو اپنی مہدیت کیلئے صرف اس لئے بطور نشان پیش نہیں کیا کہ وہ مرزا صاحب کی طرح پیسٹی کا خوگر نہ تھا۔مرزا علی محمد باب نے میں دعوی مہدویت کیا اس کے ساتویں سال رمضان ۱۲۶۷ مطابق جولائی ۱۸۵۱ میں ۱۳ اور ۲۲ر رمضان کو خسوقی و کسوق کا اختراع ہوا۔چہارم۔باپ کے دونوں جانشین صبح ازل اور بہاء اللہ بھی۔مہدویت کے ماری تھے پس یہ اجتماع کسو نہیں صداقت کا کوئی نشان نہیں یہ چار دن اعتراضات در اصل مقالطہ انگیزی کاید ترین نمونہ ہیں اس لئے کہ نے مؤلفہ مولانا ابوالقاسم دل اور میں صاحب کے رئیس قادیانی جلد یا مجلس تحفظ ختم موت دلاوری پاکستان ملتان