عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 7
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمُ وحدت امت کی بنیادی اینٹ عقل انسانی فطرت صحیحہ اور دنیا کے مسلمہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے کسی شخص کا مذہب ہی ہو سکتا ہے جسکا اظہا وہ خود کوت ہے، قرآن مجید جو انيقة اكملت لكم دينكم کا تاج از دال کرتا لَكُمْ اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیانا لِكُلِّ شَيء کے وسیع اور مرضع تخت پر جلوہ ور افروز ہے، ہر بنیادی اور اہم مسئلہ کی جزئیات کی طرح اس عالمگیر اور آفاقیے اصول کو بھی پیش فرماتا ہے۔چنانچہ اس نے جہاں " لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينَ" کا پر شوکت اعلان کر کے پوری دنیا کو آزادی فکر کا الہامی چارٹر عطا کیا وہاں یہ رہنما اصول قائم کر کے وحدت امت کی بنیادی اینٹ رکھی کہ " لا تَقُولُوا لِمَن الى NULANA KONGمَ لَسْتَ مُؤْمِنا له " جو تمہارے سامنے اسلام ظاہر اليكُمُ السَّلمَ کرے اُس کے مسلمان ہونے کا ہرگزہ انکار مت کرو (ترجمہ مولنا شبیراحمدعثمانی) علامه سید سلیمان صاحب ندوی اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اپنی کتاب سیرت النبی جلد ششم ۲۳ پر تحریر فرماتے ہیں کہ " مقصد یہ ہے کہ جو کوئی اپنے کو مسلمان کہیے یا وہ مسلمان ہونے کا دعوی کرے کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے کہ تم مسلمان نہیں ، برصغیر کے ایک عالم دین مولانا محمد عثمان فارقلیط کا بیان ہے کہ " خلافت کے دور میں جب یہ سوال اٹھا کہ مسلمان کس کو کہنا اور سمجھنا البقرة : ت النساء : ۹۵