عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 68
یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ خدا کا پیارا کلام تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے خادموں اور عاشقوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ لا تَفَرَّقُوا اپنی سوچ اور فکر کو امت میں تفرقہ کیلئے تمہیں بلکہ وحدت کیلئے وقف رکھو پھر فرماتا ہے " اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَب بتقوى ، عدل و انصاف سے کام لو کیونکہ میں تقوی کے قریب تر راہ ہے مگر جماعت احمدیہ کو منکر ختم نبوت ثابت کرتے ہوئے یہاں تک کیا گیا ہے کہ جنوری ۱۹۷۱ ء میں جبکہ پاکستان کے انتخابات میں عوامی لیگ جیت گئی اور ڈھاکہ میں پاکستان اسمبلی کا اجلاس متوقع تھا ہمارے محترم کرم فرماؤں نے ملتان کی ایک مجلس کی طرف سے ایک انگریز کا کتا بچہ شائع کرایا جس کا عنوان تھا - AN APPEAL To THE MEMBERS OF NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN » اسور کتا بچہ کے دیباچہ میں شیخ مجیب الرحمن اور خوامی لیگ کے دوسرے نمبروں کو یہ تاثر دیا کیا کہ قادیانی مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر ملک کا مستقبل وابستہ ہے اسی لئے علامہ اقبال نے اس پر شری در بسط سے قلم اٹھایا نیز قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے جس سیاستدان نے ماحول کی نزاکت کو محسوس کیا وہ رہنما سید شہید سہر وردی ہی تھے اس تمہید کے بعد یہ واضح کر نے کیلئے کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقید یا ہے بعض آیات اور احادیث درج کرنے کے بعد ڈاکٹر سر محمد اقبال کی طرف رو شعر منسوب کئے گئے۔حالانکہ دونوں شعر علامہ کے نہیں بلکہ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رقم فرمودہ ہیں جو یہ ہیں :-