عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 47
ان صاحب کو زندگی بھر اپنے کلام میں انکو دوبارہ شامل کرنے کی جرات نہ ہوسکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے احمدیوں کو آنحضرت کی ذات اقدس سے ایسی بیمثال عقیدت اور فدائیت پیدا ہو چکی ہے کہ اگر ناموس مصطفیٰ ص کا سوال پیدا ہو تو وہ اپنی جانوں کو بھی بلاتا قتل خاتم الانبیاء محمد مصطفی مصلی اللہ علیہ وسلم یہ قربان کر دیں گے تے کو دوڑ جاں ہو تو کرد دل قدا محمد پیر کہ اس سے لطف و عنایات کا شمار نہیں۔دوسری مثال - حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۲ پر ایک خواب بیان فرمائی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں اس خواب کی بناء پر آپ کی طرف دعوی خدائی منسوب کر دیا گیا حالانکہ خواب ہمیشہ تعبیر طلب ہوتی ہے اور تعبیر الرویا کی مشہور کتاب تعطیر الانام خدا میں صاف لکھا ہے کہ خواب میں اپنے تئیں خدا ہو نیکی تغییر یہ ہے کہ وہ صراط مستقیم تک پہنچے گا۔خود حضرت اقدس نے آگئے آئینہ کمالات اسلام کے مت۵۲ میں خود ہی تعبیر بیان فرما دی کہ اسمیں اشارہ ہے کہ آسمانی اور زمینی تائیدات مجھے حاصل ہونگی۔اس کے بعد مزید وضاحت فرمائی کہ میں اس خواب کے یہ معنی ہرگز نہیں لیتا کہ گویا میں خدا ہوں اور نہ حلولیوں کی طرح کہتا ہوں کہ خدا مجھ میں حلول کر آیا بلکہ یہ خواب بخاری کی قرب نوافل والی حدیث قدسی کیمطابق ہے ،انت رای مطبوعہ بیروت ۱۲۸۴ھ (افسوس بعد کے ایڈیشن میں اس عبارت میں تحریف کر دی گئی) ل كتاب الرقاق باب التواضع (جلدهم صثه (مطبوعه مصر)