انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 193

انوار خلافت — Page 70

تحصیل علم تیسری بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ علم کا حصول ہے۔علم اور جہالت میں بہت بڑا فرق ہے۔جس طرح ایک اندھے اور سو جا کھے میں فرق ہے۔اسی طرح عالم اور جاہل میں فرق ہے۔جس طرح ایک اندھا نہیں جانتا کہ میں نجاست میں ہاتھ ڈال رہا ہوں یا کسی لذیذ اور مزیدار کھانے میں۔سانپ پکڑ رہا ہوں یا کوئی نہایت نرم اور ملائم چیز۔اسی طرح جہالت کی وجہ سے انسان بہت بری بری حرکتیں کرتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔اس لئے تباہ ہو جاتا ہے۔دیکھو وہ لوگ جنہوں نے جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو نہ سمجھا وہ خدا اور انسان میں فرق نہ کر سکے۔پھر کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو خود پتھر تراشتے ہیں اور خود ہی ان کے آگے گرتے اور سجدہ کرتے ہیں۔پھر ایسے بھی فرقے ہیں جو جہالت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ عورتوں کو ننگا کر کے ان کی شرمگاہوں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کو بہت بڑی عبادت سمجھتے ہیں۔پھر ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی اپنی ماں سے زنا کرلے تو وہ سیدھا بہشت میں چلا جاتا ہے۔البتہ اس میں وہ ایک شرط بتاتے ہیں کہ انسان ایسا کر کے پھر اس کو مخفی رکھے اور کسی کو اس کا پتہ نہ لگنے دے۔شاید تم کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ کیا ایسے انسان بھی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔لاہور، امرتسر اور دہلی وغیرہ شہروں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو قبروں سے مردوں کی لاشیں نکال کر کھانا بہت ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔غرض جہالت انسان کو بہت دور پھینک دیتی ہے اور جاہل انسان نہ خدا کو پا سکتا ہے اور نہ دنیا حاصل کر سکتا ہے نہ تمدن میں بڑھ سکتا ہے نہ تجارت میں فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔پس علم کو حاصل کرنا اور جہالت سے نکلنا بہت ضروری ہے۔ہماری جماعت تو خدا تعالیٰ کی پیاری جماعت ہے اور آنحضرت سائی یتیم ہی کی جماعت کے مشابہ ہے کیونکہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اس قوم کے وارث ہو -