انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 193

انوار خلافت — Page 63

۶۳ ہے۔جس طرح بادشاہوں کے بھی کچھ لوگ مقرب ہوتے ہیں جن سے وہ اپنے راز کی باتیں کرتے اور بڑے بڑے امور کی ان کو پیش از وقت اطلاع دے دیتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ جن کو اپنے راز کی باتیں بتاتا اور آئندہ ہونے والے امور کی اطلاع بخشتا ہے وہ نبی ہوتے ہیں۔نبی ہونا خدا تعالیٰ کے قرب کا آخری درجہ پانا ہے اور امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پا نا نبی ہونے کی علامت ہے۔جس طرح بادشاہ جب اپنے کسی خاص آدمی سے مشورہ کرتا اور اس سے اپنے راز کی باتیں کہتا ہے تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ بادشاہ کا خاص وزیر ہے۔اسی طرح جب ایک انسان خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پا کر لوگوں کو بتاتا ہے اور وہ پوری ہوجاتی ہیں تو وہ جان جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں کہ غیب کی خبریں بتائے۔اس لئے یہ جو بات بتا تا ہے خدا ہی کی بتائی ہوئی بتا تا ہے پس یہ خدا کا نبی ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ نبی کے لئے کتاب کا لانا ضروری ہے وہ تاریخ کا انکار کرتا ہے اور اسے ہندوؤں، یہودیوں اور عیسائیوں کے بہت سے انبیاء کورد کرنا پڑے گا۔کیونکہ ان میں ایسے نبی آئے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے۔اور اگر کتاب سے الہامات کا مجموعہ مراد ہے تو ایسی کتاب تو حضرت مسیح موعود " بھی لائے ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں پیغامیوں میں سے ہی ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مجموعہ تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔حضرت مسیح موعود" تو اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں۔اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا۔اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔“ (چشمہ معرفت صفحه ۳۱۷، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۳۲) لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک ایسا انسان جس پر اتنے نشانات اترے کہ ان سے