انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 193

انوار خلافت — Page 62

۶۲ پھر آپ لکھتے ہیں ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں۔جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے۔“ ( بدر ۵ / مارچ ۱۹۱۵ء) اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں ہوا جو شریعت نہ لایا ہو۔لیکن حضرت مسیح موعود " فرماتے ہیں کہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں۔ہم کہتے ہیں جب بنی اسرائیل میں ایسے نبی آچکے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے تو پھر یہ مطالبہ حضرت مرزا صاحب کے لئے کیوں پیش کیا جاتا ہے۔لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمار اوار کہاں پڑتا ہے۔کیسا نادان ہے وہ شخص جو کسی کو تیر مارے اور سامنے اس کا اپنا باپ کھڑا ہو مگر وہ یہ خیال نہ کرے کہ اگر میں نے تیر مارا تو تیر پہلے میرے باپ کو چھیدے گا اور پھر کہیں اس تک پہنچے گا۔یہ لوگ بھی ایسے ہی ہیں یہ نہیں جانتے کہ ہمارا حملہ حضرت مسیح موعود“ پر نہیں ہے بلکہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ" ، حضرت عیسی اور آنحضرت صلی یا اسلام پر پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسی باتیں پیش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے بار بار لکھا ہے کہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے۔لیکن ہم سے یہی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مرزا صاحب کی کتاب بتاؤ ورنہ وہ نبی نہیں ہو سکتے۔انہوں نے سمجھا ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ کی کوئی کتاب دنیا میں کیوں آتی ہے۔کتاب تو اس وقت آتی ہے جبکہ پہلی شریعت کے احکام مٹ چکے ہوں یا ایسے مسخ ہو چکے ہوں کہ ان کا معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہو۔لیکن جب پہلی شریعت موجود ہو اور اس کے احکام میں بھی کوئی نقص نہ واقعہ ہو گیا ہو تو پھر کسی اور کتاب کے آنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔نبوت خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہوتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ نبی وہی ہو جس کو شریعت بھی دی جائے۔۔۔جس طرح دنیا کے بادشاہوں نے اپنے وزراء اور امراء کے لئے درجے مقرر کر کے نام رکھے ہوتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے بھی اپنے مقربین کے لئے نام تجویز فرمائے ہوئے ہیں اور وہ نام یہ ہیں۔نبی ، صدیق شہید اور صالح ان میں سے نبی ایک خاص درجہ ہے۔اور جو یہ نام پا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے خاص الخاص انسانوں میں سے ہو جاتا