انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 193

انوار خلافت — Page 4

پیش لفظ سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت کے دوسرے جلسہ سالانہ پر ۲۸-۲۷ اور ۳۰ دسمبر ۱۹۱۵ء کو جو خطاب ارشاد فرمائے۔اس میں آپ نے اسمہ احمد کی تفسیر بیان فرمائی اور آپ نے ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کسی طرح بھی قرآن مجید و احادیث کے متضاد نہیں۔اسی طرح آپ نے جماعت کی اصلاح و بہتری کے پیش نظر بعض مسائل بھی بیان کرتے ہوئے ضروری نصائح فرما ئیں۔نیز آپ نے جماعتی ترقی کے پیش نظر تاریخی واقعات بیان کرتے ہوئے آئندہ پیدا ہونے والے فتنوں سے بھی متنبہ کیا اور ان فتنوں سے بچنے کے ذرائع بھی بیان فرمائے ہیں حضور نے یہ بھی واضح کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے آپ کی اتباع میں آپ کے مشن کی تکمیل کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا بروز اور کل بنا کر مبعوث فرمایا اور ظلی طور پر گذشتہ انبیاء کے نام سے سرفراز کیا تا کہ آپ ہر ایک قوم کو امت واحدہ میں شامل کر سکیں۔حضور نے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک سے زیادہ نام رکھے جانے کی حکمتیں بھی بیان فرمائیں۔حضور رضی اللہ عنہ کی یہ بصیرت افروز تقاریر ۱۹۱۶ء میں کتابی شکل میں انوار خلافت کے نام سے شائع ہوئیں خلافت احمدیہ کے سوسال مکمل ہونے کے تاریخی موقعہ پر سید نا حضرت اقدس امیر المومنین خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام احمدی احباب اسے پڑھیں اور ذیلی تنظیموں کی طرف سے اس کا امتحان لیا جائے لہذا نظارت نشر و اشاعت اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے اللہ تعالیٰ اس کی اشاعت کو مبارک کرے۔خاکسار ( ناظر نشر واشاعت )