انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 193

انوار خلافت — Page 156

ܪܙ آپ کے پہنچنے کے دوسرے دن آپ کی اور حضرت زبیر کی ملاقات ہوئی۔وقت ملاقات حضرت علی نے فرمایا کہ آپ نے میرے لڑنے کے لئے تو لشکر تیار کیا ہے مگر کیا خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کوئی عذر بھی تیار کیا ہے۔آپ لوگ کیوں اپنے ہاتھوں سے اس اسلام کے تباہ کرنے کے درپے ہوئے ہیں جس کی خدمت سخت جانکاہیوں سے کی تھی۔کیا میں آپ لوگوں کا بھائی نہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو ایک دوسرے کا خون حرام سمجھا جاتا تھا لیکن اب حلال ہو گیا اگر کوئی نئی بات پیدا ہوئی ہوتی تو بھی بات تھی جب کوئی نئی بات پیدا نہیں ہوئی تو پھر یہ مقابلہ کیوں ہے اس پر حضرت طلحہ نے کہا۔وہ بھی حضرت زبیر کے ساتھ تھے کہا کہ آپ نے حضرت عثمان کے قتل پر لوگوں کو اکسایا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں حضرت عثمان کے قتل میں شریک ہونے والوں پر لعنت کرتا ہوں پھر حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا کہ کیا تم کو یاد نہیں کہ رسول کریم صلیا پی ایم نے فرمایا تھا کہ خدا کی قسم تو علی سے جنگ کرے گا اور تو ظالم ہوگا۔یہ سن کر حضرت زبیر اپنے لشکر کی طرف واپس لوٹے اور قسم کھائی کہ وہ حضرت علی سے ہر گز جنگ نہیں کریں گے اور اقرار کیا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی۔جب یہ خبر لشکر میں پھیلی تو سب کو اطمینان ہو گیا کہ اب جنگ نہ ہوگی بلکہ صلح ہو جائے گی لیکن مفسدوں کو سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔اور جب رات ہوئی تو انہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علی کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ وزبیر کے لشکر پر رات کے وقت شب خون ماردیا۔اور جو ان کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علی کے لشکر پر شب خون ماردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا۔اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں صرف سبائیوں کا ایک منصوبہ تھا۔جب جنگ شروع ہوگئی تو حضرت علی نے آواز دی کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے۔شاید ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور