انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 193

انوار خلافت — Page 155

آپ نے بھی ایک لشکر تیار کیا اور بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔بصرہ پہنچ کر آپ نے ایک آدمی کو حضرت عائشہ اور طلحہ اور زبیر کی طرف بھیجا۔وہ آدمی پہلے حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور دریافت کیا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ارادہ صرف اصلاح ہے اس کے بعد اس شخص نے طلحہ اور زبیر کو بھی بلوا یا۔اور ان سے پوچھا کہ آپ بھی اسی لئے جنگ پر آمادہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاں۔اس شخص نے جواب دیا کہ اگر آپ کا منشاء اصلاح ہے تو اس کا یہ طریق نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ تو فساد ہے اس وقت ملک کی ایسی حالت ہے کہ اگر ایک شخص کو آپ قتل کریں گے تو ہزار اس کی تائید میں کھڑے ہو جائیں گے اور ان کا مقابلہ کریں گے تو اور بھی زیادہ لوگ ان کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔پس اصلاح یہ ہے کہ پہلے ملک کو اتحاد کی رسی میں باندھا جائے پھر شریروں کو سزا دی جائے ورنہ اس بدامنی میں کسی کو سزا دینا ملک میں اور فتنہ ڈلوانا ہے۔حکومت پہلے قائم ہو جائے تو وہ سزا دے گی۔یہ بات سن کر انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی کا یہی عندیہ ہے تو وہ آجائیں ہم ان کے ساتھ ملنے کو تیار ہیں۔اس پر اس شخص نے حضرت علی کو اطلاع دی اور طرفین کے قائم مقام ایک دوسرے کو ملے اور فیصلہ ہو گیا کہ جنگ کرنا درست نہیں صلح ہونی چاہئے۔جب یہ خبر سبائیوں کو ( یعنی جو عبد اللہ بن سبا کی جماعت کے لوگ اور قاتلین حضرت عثمان تھے ) پہنچی تو ان کو سخت گھبراہٹ ہوئی۔اور خفیہ خفیہ ان کی ایک جماعت مشورہ کے لئے اکٹھی ہوئی۔انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لئے سخت مضر ہوگی۔کیونکہ اس وقت تک ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے بچ سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں گے۔اگر صلح ہوگئی اور امن ہو گیا تو ہمارا ٹھکانا کہیں نہیں۔اس لئے جس طرح سے ہو صلح نہ ہونے دو۔اتنے میں حضرت علی بھی پہنچ گئے۔اور