انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 193

انوار خلافت — Page 130

طرح چاہتا ہے تمہارے ذریعہ سے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوار ہا ہے۔مگر یا درکھو کہ اس بات کا انجام نیک نہ ہوگا اور تم دکھ پاؤ گے۔بہتر ہے کہ جماعت اسلام میں شامل ہو جاؤ۔میں خوب جانتا ہوں کہ تمہارے دل میں کچھ اور ہے جسے تم ظاہر نہیں کرتے لیکن اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کر کے چھوڑے گا (یعنی تم اصل میں حکومت کے طالب ہو اور چاہتے ہو کہ ہم بادشاہ ہو جائیں اور دین سے متنفر ہو لیکن بظاہر اپنے آپ کو مسلم کہتے ہو ) اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے حضرت عثمان کو ان کی حالت سے اطلاع دی اور لکھا کہ وہ لوگ اسلام و عدل سے بیزار ہیں اور ان کی غرض فتنہ کرنا اور مال کمانا ہے پس آپ ان کے متعلق گورنروں کو حکم دے دیجئے کہ ان کو عزت نہ دیں یہ ذلیل لوگ ہیں۔پھر ان لوگوں کو شام سے نکالا گیا اور وہ جزیرہ کی طرف چلے گئے۔وہاں عبد الرحمن بن خالد بن ولید حاکم تھے انہوں نے ان کو نظر بند کر دیا اور کہا کہ اگر اس ملک میں بھی لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تو یاد رکھو میں ایسی خبر لوں گا کہ سب شیخی کرکری ہو جائے گی۔چنانچہ انہوں نے انہیں سخت پہرہ میں رکھا۔حتی کہ ان لوگوں نے آخر میں تو بہ کی کہ اب ہم جھوٹی افواہیں نہ پھیلائیں گے۔اور اسلام میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں گے۔اس پر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید نے ان کو اجازت دے دی کہ جہاں چاہو چلے جاؤ۔اور اشتر کو حضرت عثمان کی خدمت میں بھیجا کہ اب یہ معافی کے طالب ہیں۔آپ نے انہیں معاف کیا اور اختیار دیا کہ جہاں چاہیں رہیں۔اشتر نے کہا کہ ہم عبدالرحمن بن خالد کے پاس ہی رہنا چاہتے ہیں چنانچہ وہیں ان کو واپس کیا گیا۔اس گروہ کے علاوہ ایک تیسرا گروہ تھا جو تفرقہ کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔اس کا سر گروہ ایک شخص حمران بن ابان تھا اس نے ایک عورت سے عدت کے اندر شادی کر لی تھی جس پر اسے مارا گیا اور بصرہ کی طرف جلا وطن کر دیا گیا۔وہاں اس نے فساد ڈلوانا شروع کیا اور تفرقہ