انوار خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 193

انوار خلافت — Page 12

۱۲ ہیں۔مگر آپ یہ تو بتائیں کہ آپ نے اس وقت تک اپنی غلطیوں کے کتنے اشتہار دیئے ہیں اور کتنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے کیا آپ کو بھی معصوم عن الخطاء سمجھ لیا جائے ؟ کتنے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ مجھ پر وہ سوال کیا جاتا ہے جو خود ان پر پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی وہ اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔اگر ان کی طرف سے اپنی غلطیوں کے اعتراف میں کوئی اشتہار شائع ہو چکا ہو تا تب تو وہ مجھے یہ کہنے کا حق رکھتے تھے۔لیکن جب انہوں نے خود ہی ایسا نہیں کیا تو پھر مجھ سے کیوں یہ توقع رکھتے ہیں۔لیکن میں اقرار کرتا ہوں کہ میں غلطی کرسکتا ہوں اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے غلطی بھی کی ہے اور بہت بڑی غلطی کی ہے جو یہ ہے کہ میں نے اپنے اخباروں کو سمجھایا کہ ان کے متعلق کچھ نہ لکھو۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ہمارے اخباروں نے میرے کہنے پر خاموشی اختیار کی جب ہی وہ گالیوں اور بدزبانی میں بڑھ گئے اور طرح طرح کے جھوٹ اور بہتان لکھنے شروع کر دیئے۔میں نے یہ غلطی کی اور بڑی غلطی کی کہ اپنے اخباروں کو ان کے متعلق لکھنے سے روکا۔چونکہ انسان غلطی کرتا ہے میں نے بھی یہ غلطی کی۔ایک دوست ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں سفر میں گیا تو ایک مسجد میں ٹھہرا۔وہاں ایک شخص بیٹھا تھا وہ بے تحاشا مجھے گالیاں دینے لگ گیا اور میں خاموش سنتا رہا اور خیال کرتا رہا کہ میں اب کروں تو کیا کروں اور اسے کیونکر چپ کراؤں لیکن کچھ نہ سوجھتا۔آخر کچھ دیر کے بعد اسی جگہ سے ایک صف میں سے ایک اور شخص نکلا اور وہ اس کو گالیاں دینے لگ گیا جب اس نے بھی گالیاں دینی شروع کیں تب جا کر وہ پہلا شخص خاموش ہو ا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دونوں دیوانے تھے اور اتفاق سے اس جگہ اکٹھے ہو گئے تھے۔اسی طرح اگر ادھر سے چپ ہو جائیں تو وہ گالیوں میں بڑھے چلے جاتے ہیں اور اعتراض پر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں اور آگا پیچھا کچھ نہیں دیکھتے۔لیکن اگر ان کے اعتراضات کا جواب دیا جائے اور ظاہر کیا جائے کہ جو اعتراضات وہ ہم پر کرتے ہیں وہ ہم